ویژن 2047 ترقیاتی روڈ میاپ کے تحت ریاست کی معیشت تین ٹریلین ڈالر کرنے کا نشانہ

   

اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کا آغاز

ریاست کی معیشت مستحکم ، فی کس آمدنی 4.18 لاکھ ، موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر عمل آوری ، ترقی کے ساتھ فلاح و بہبود حکومت کی ترجیح
تلنگانہ کو منشیات سے پاک بنانے کا عہد ، فیوچر سٹی سے صنعتی ترقی ، اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر شیو پرتاپ شکلا کا خطاب
حیدرآباد 16 مارچ (سیاست نیوز)گورنر تلنگانہ شیو پرتاپ شکلا نے کہا کہ حکومت نے ویژن 2047 کا ترقیاتی روڈ میاپ تیار کیا جس کے تحت ریاست کی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر تک ترقی دینے کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کے پہلے دن گورنر شیو پرتاپ شکلا دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ گورنر نے کہا کہ حکومت کا بجٹ تمام طبقات کی ترقی کا ضامن رہے گا۔ گورنر نے قومی اور ریاستی سطح پر معاشی ترقی کا موازنہ کرکے بتایا کہ قومی شرح ترقی 8 فیصد اور افراط زر 1.72 فیصد درج کی گئی ہے ۔ اس تناظر میں تلنگانہ کی معیشت مستحکم ہے ۔ سال 2025-26 میں ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار 17.82 لاکھ کروڑ رہی جو 10.7 فیصد شرح ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تلنگانہ کی حصہ داری 4.99 فیصد ہے۔ گورنر نے کہا کہ ریاست کی فی کس آمدنی 418931 روپئے پہنچ چکی ہے۔ ریاست کی معیشت کو مستحکم کرنے حکومت نے کئی اقدامات کئے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی ، تجارت ، سیاحت اور دیگر شعبہ جات کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے ۔ گورنر نے شہری ترقی کیلئے تلنگانہ کو تین علحدہ زونس میں تقسیم کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ 2031 تک ریاست کی شہری آبادی 53.8 فیصد ہوجائیگی۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کو بہتر عوامی خدمات کیلئے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جھیلوں و تالابوں کے تحفظ کیلئے حیڈرا نے 1045 ایکر سرکاری اراضی کا تحفظ کیا ہے جس کی مالیت تقریباً 60 ہزار کروڑ ہے۔ گورنر نے کہا کہ حکومت سیلف ہیلپ گروپس کو ایک لاکھ کروڑ قرض فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گورنر نے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود سے صنعتوں کو دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ آلودگی سے بچاؤ کیلئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ۔ حکومت الیکٹرک گا ڑیوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اور انہیں لائف ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ۔ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر گورنر نے کہا کہ 55 کیلو میٹر طویل ماحولیاتی راہداری کو بحال کیا جائیگا جو عثمان ساگر اور حمایت ساگر ذخائر آب سے گاندھی سروور تک ہے۔ پہلے مرحلہ پر عمل جاری ہے۔ موسیٰ ندی کی بحالی کے طور پر گوداوری فیس II اور III کی تکمیل کرکے 2.5 ٹی ایم سی پانی عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے موسیٰ اور عیسیٰ کے سنگم پر باوقار گاندھی سروور پراجکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کا مغربی علاقہ کوڑنگل آئندہ چند برسوں میں صنعتی مرکز میں تبدیل ہوگا۔ نئی گرین فیلڈ حیدرآباد تا امراوتی ایکسپریس وے تعمیر کی جائیگی ۔ حکومت ہند نے حیدرآباد تا بنگلور ، چینائی و پونے کیلئے تین تیز رفتار بلٹ ٹرینوں کا اعلان کیا ہے۔ شمس آباد کو بلٹ ٹرین مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ گورنر نے کہا کہ فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے تحت صنعتی اور شہری ترقی کے بنیادی کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ رائزنگ سمٹ میں 5.75 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدات کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹام کام کے ذریعہ گزشتہ دو برسوں میں 13930 امیدواروں کو یو اے ای ، جرمنی ، جاپان ، برطانیہ اور کینیڈا کے بشمول 16 ممالک میں روزگار فراہم کیا گیا۔ تلنگانہ کی آئی ٹی برآمدات 3.13 لاکھ کروڑ تک پہنچ چکی ہیں جس سے 9.39 لاکھ ملازمتیں ملی ہیں۔ گورنر نے کہا کہ دو برسوں میں 15.12 لاکھ نئے راشن کارڈس جاری کئے گئے۔ ریاست میں جملہ 1.05 کروڑ راشن کارڈس ہیں اور حکومت فی کس 6 کیلو باریک چاول سربراہ کر رہی ہے ۔ اندراماں ہاؤزنگ کے تحت ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور جملہ 4.5 لاکھ مکانات 22500 کروڑ سے تعمیر کئے جائیں گے۔ گورنر نے کہا کہ 324536 مکانات منظور کئے گئے اور 262449 مکانات تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔ گورنر نے مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کے ذریعہ 9222 کروڑ کی بچت کا دعویٰ کیا۔ مہا لکشمی اسکیم کے ذریعہ 42.90 لاکھ مستحق خاندانوں کو رعایتی شرح پر ایل پی جی سربراہ کی جارہی ہے ۔ 53.09 لاکھ خاندانوں کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ گورنر نے چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے تحت دو برسوں میں 437086 مستحقین میں 2046 کروڑ کی امداد کا دعویٰ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقہ جات میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے 99 روزہ ایکشن پلان کا حوالہ دیا تاکہ محکمہ جات کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔ گورنر نے تلنگانہ کو منشیات سے پاک ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے تحت ایگل ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔ حکومت سرکاری ملازمین کو حادثاتی انشورنس اسکیم متعارف کرچکی ہے جس سے حادثاتی موت پر 1.2 کروڑ فراہم کئے جائیں گے۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ کا روڈ میاپ صرف منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کمزور اور ضرورتمند افراد کیلئے محفوظ پناہ گاہ رہے ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ تلنگانہ کا بجٹ ہر شہری کی امیدوں اور ترقی کا ضامن رہے گا۔1