ویژن زیرو۔ حکمت صفر گورنر کے خطبہ پر ڈی شراون کی تنقید

   

تلنگانہ میں معاشی بحران، ملازمتوں کے وعدے نظرانداز، کونسل میں حکومت پر تنقید کی
حیدرآباد 17 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس ایم ایل سی ڈاکٹر دوساجو شراون نے قانون ساز کونسل میں کانگریس حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے گورنر کے خطبہ اظہار تشکر مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا خطبہ ’بے سمت تلنگانہ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں حقیقی مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے تلنگانہ کے شہدا کو نظرانداز کیا جبکہ روزگار کے دعوے گمراہ کن ہیں۔ شراون نے کانگریس حکومت کے 67 ہزار سرکاری ملازمتوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف 17 ہزار نئی ملازمتیں دی گئی ہیں جبکہ ماباقی ملازمتیں بی آر ایس حکومت کی ہیں۔ بی آر ایس دور میں اعلامیہ جاری کیا گیا۔ امتحانات کا عمل مکمل کیا گیا صرف تقررنامے حوالے کرکے کانگریس حکومت اپنا کارنامہ قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے ملازمتوں کی فراہمی پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ ریاست شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سرکاری خزانہ خالی ہوچکا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی چھ ضمانتوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو مالی امداد۔ کسانوں کی قرض معافی اور پرانی پنشن اسکیم جیسے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے بی سی تحفظات موسی پراجکٹ میں غریبوں کے مکانات کی مسماری، کالیشورم پراجکٹ، مس ورلڈ تنازعہ جیسے مسائل پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ 2