برسلز۔ 17فبروری (ایجنسیز) مغربی انٹلیجنس حکام نے اطلاع دی ہے کہ وہ بھرتی کرنے والے اور پروموٹرز جو پہلے روسی ’’ویگنر‘‘ گروپ کیلئے کام کرتے تھے، اب یورپ میں کریملن کے زیر اہتمام حملوں کے ایک اہم ذریعے کے طور پر ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ جون 2023 میں روسی فوجی قیادت کے خلاف ناکام بغاوت اور اس کے بعد ہونے والی کریک ڈاؤن اور گروپ کے بانی یولگینی پریگوڑن کی ہلاکت کے بعد سے اس لڑاکا گروپ کی حیثیت غیر یقینی تھی۔تاہم حکام نے بتایا کہ ویگنر کے بھرتی کرنے والے۔ جو پہلے روسی دیہاتوں سے نوجوانوں کو یوکرین میں لڑنے کیلئے قائل کرنے کے ماہر تھے۔ کو اب ایک نیا کام سونپ دیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشیل ٹائمز کے مطابق انہیں نیٹو ملکوں کی سرزمین پر مشن انجام دینے کیلئے معاشی طور پر کمزور یورپیوں کو بھرتی کرنے کا کام دیا گیا ہے۔ ایک مغربی انٹیلی جنس اہلکار نے ویگنر نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی (GRU) اپنے پاس موجود ٹیلنٹ کو استعمال کر رہی ہے۔ جی آر یو اور روسی فیڈرل سکیورٹی سرویس (FSB) دونوں ہی یورپ میں افراتفری پھیلانے کیلئے ایسے ایجنٹوں کی بھرتی میں انتہائی سرگرم ہو گئے ہیں جنہیں وقت آنے پر قربان کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں کریملن نے پورے یورپ میں بے چینی اور تخریب کاری کی مہم کو وسعت دی ہے جس کا مقصد یوکرین کی حمایت میں مغربی طاقتوں کے عزم کو کمزور کرنا اور سماجی بے چینی پیدا کرنا ہے۔
یورپی دارالحکومتوں سے سفارتکاروں کی بیدخلی کے نتیجہ میں یورپ میں روسی خفیہ ایجنٹوں کی تعداد کم ہونے کے بعد ماسکو کے جاسوسی سربراہوں نے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے تیزی سے پراکسیز کا سہارا لیا ہے۔اعلیٰ یورپی انٹلیجنس حکام نے فینانشیل ٹائمز کو بتایا کہ ویگنر نیٹ ورک روسی فوجی انٹیلی جنس کیلئے اگرچہ ایک ابتدائی مگر ایک انتہائی موثر آلہ ثابت ہوا ہے۔ ویگنر کے کارندوں نے ان بھرتی ہونے والوں کو مختلف کام سونپے ہیں جن میں سیاست دانوں کی گاڑیوں کو آگ لگانا، یوکرین کیلئے امداد رکھنے والے گوداموں کو نشانہ بنانا اور نازی نظریات کے علمبردار بن کر سامنے آنا ہے۔
عام طور پر ان افراد کو پیسے کے عوض بھرتی کیا جاتا ہے اور یہ اکثر وہ پسماندہ افراد ہوتے ہیں جن کی زندگی کا کوئی مقصد یا سمت نہیں ہوتی۔ ایک یورپی اہلکار نے بتایا کہ ویگنر کے پاس پروموٹرز اور بھرتی کرنے والوں کا ایک تیار نیٹ ورک موجود ہے جو ان لوگوں کی زبان بولتے ہیں۔ اہلکار نے مزید کہا کہ روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں عام طور پر اپنے اور فیلڈ ایجنٹوں کے درمیان ثالثوں کی کم از کم دو تہیں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ انکار کرنے کی گنجائش برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔