صدر امریکہ کے لہجے میں نرمی، ایران کے خلاف فوجی متبادل کے جوش و خروش میں کمی
واشنگٹن ۔ 16 جنوری (ایجنسیز) چند دن کے بڑھتے ہوئے تناؤ اور مشکل گھڑیوں کے بعد، امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی متبادل کے جوش و خروش میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں نرم رویہ اختیار کیا، جبکہ پہلے وہ تیز اور فیصلہ کن حملے کے حق میں پْرجوش تھے۔علاقائی ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں میں ایک بھرپور سفارتی کوشش نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دی، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ جلد ہی امریکہ ممکنہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے پانچ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ براہِ راست اور بالواسطہ واشنگٹن- تہران رابطے صورتحال کو پرسکون کرنے میں مددگار ثابت ہوئے، جب خطہ کسی خطرناک تصادم کے قریب تھا۔ذرائع نے مزید کہا کہ متعدد ممالک نے امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ تحمل سے کام لے، کیونکہ ایران پر کسی بھی حملے سے پڑوسی ممالک کو براہِ راست نقصان اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت کشیدگی کم کر دی گئی ہے اور واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کیلئے وقت دے گا۔”واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں سے ایرانی حکام نے امریکی انتظامیہ کو یقین دلایا کہ مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر سزائیں دینے کا کوئی ارادہ نہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بیرون ملک رپورٹ کی گئی سطح سے کم ہے۔ روس اور سلطنت عمان جیسے ثالث ممکنہ طور پر ان رابطوں میں مدد کر رہے ہیں، اور یہ چینل آئندہ دنوں میں مزید وسیع مذاکرات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔دریں اثنا، امریکی فوجی موجودگی بھی جاری ہے۔ تجزیاتی ذرائع اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز خطے کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے ہمراہ دیگر جنگی جہاز بحر جنوبی چین سے حرکت میں ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ایک ہفتے میں پہنچ جائیں گے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق، یہ عسکری حرکت ممکنہ حملے کی تیاری یا ایران کو الجھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
