ٹرمپ کادوبارہ صدر بننے ایڑی چوٹی کا زور

,

   

امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ اور جوبیڈن کے حامیوں میں ٹکراؤ ، انتخابی عمل ہائی جیک ہونے کا امکان

واشنگٹن : صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ صدر بننے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ وائیٹ ہاؤز پر کس کا قبضہ ہوگا اس کا فیصلہ /3 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد ہوگا ۔ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جوبیڈن کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہورہی ہیں ۔ انتخابات سے دو دن قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ڈیموکریٹک کٹر حریف جوبیڈن کو ناکام بنانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وائیٹ ہاؤز پر قبضہ برقرار رکھنا ٹرمپ کیلئے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ رائے دہندوں کا ذہن تبدیل کرنے اور بیلٹ پیپرس میں دھاندلیوں کے بھی امکانات پائے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کی بی جے پی حکومت کی طرح ٹرمپ بھی حکمت عملی کے ساتھ انتخابات کا رخ بیلٹ باکسیس میں الٹ پھیر کے ذریعہ اپنی کامیابی کو یقینی بناسکتے ہیں ۔ 1992 ء میں ریپبلکن کے سینئر جارج ڈبلیو بش کو ایک میعاد کے بعد دوبارہ کامیابی نہیں ملی ۔ ریپبلکن کی اس تاریخ کو دہرانے سے گریز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ دھواں دھار انتخابی مہم چلارہے ہیں ۔ انہوں نے مشی گن ، ایوا ، نارتھ کرولینا ، جارجیا اور فلوریڈا میں زبردست مہم چلائی ۔ جوبیڈن پنسلاوانیہ میں مہم چلانے والے ہیں۔ ٹرمپ اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود جوبیڈن سے آگے نہیں ہیں ۔ انتخابی سروے کے مطابق جوبیڈن کو ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے ۔ مختلف علاقوں میں ڈونالڈ ٹرمپ اور جوبیڈن کے حامیوں نے ایک دوسرے پر دھاوا بول دیا ہے ۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ڈی ورلی ہلز میں ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کی ریالی پر مخالفین نے حملہ کردیا جس میں ٹرمپ کے متعدد حامی زخمی ہوگئے ۔ نارتھ کرولینا میں بھی پولیس نے 8 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ امریکی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ہوسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو روز فیصلہ سنایا تھا کہ پنسلاونیہ کے انتخابی عہدیدار انتخابات کے دن کے 3 روز بعد پہنچنے والے ایبسینٹی بیلٹ قبول کرسکتے ہیں جو ڈیموکریٹس کو قانونی معرکہ آرائی میں فتح دلائیں گے ۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ /3 نومبر کے انتخابات کے بعد بھی رائے دہندوں کو نتائج کیلئے ہفتوں انتظار کرنا پڑے گا ۔ وائیٹ ہاؤز جانے کی جنگ میں کون کامیاب ہوتا ہے یہ /3 نومبر کے بعد ہی معلوم ہوگا ۔ امریکی عوام کورونا وائرس سے نمٹنے میں ٹرمپ کی ناکامیوں سے ناراض ہیں ۔ معاشی ابتری بھی ٹرمپ کو کامیابی سے روک سکتی ہے ۔