ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود پوتن یوکرین سے جنگ جاری رکھیں گے!

   

ماسکو، 16 جولائی (یو این آئی)روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین میں جنگ اُس وقت تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک مغرب اُن کی شرائط پر امن مذاکرات پر راضی نہیں ہوتا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اُن کی علاقائی مطالبات میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ پوتن ، جنہوں نے فروری 2022 میں روسی فوج کو یوکرین میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس سے پہلے آٹھ سال تک یوکرین کے مشرق میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرینی فوج کے درمیان لڑائی جاری رہی تھی، کا ماننا ہے کہ روس کی معیشت اور فوج اتنی مضبوط ہے کہ وہ مغرب کی مزید پابندیوں کا مقابلہ کرسکے گی۔خیال رہے کہ ٹرمپ نے پیر کے روز پوتن کے جنگ بندی پر آمادہ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا، جس میں پیٹریاٹ میزائل سسٹمز بھی شامل ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر 50 دن میں امن معاہدہ نہ ہوا تو روس پر مزید پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔کریملن کی اعلیٰ سطحی سوچ سے واقف تین روسی ذرائع نے کہا کہ پوتن مغرب کے دباؤ میں آکر جنگ نہیں روکیں گے اور ان کا ماننا ہے کہ روس، جس نے مغرب کی سخت ترین پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے ، مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرسکتا ہے ، جن میں روسی تیل کے خریداروں پر امریکی ٹیرف بھی شامل ہیں۔ایک ذریعہ نے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ پوتن سمجھتے ہیں کہ یوکرین میں امن کے معاملے پر کسی نے ان سے سنجیدگی سے بات نہیں کی، بشمول امریکیوں کے ، اس لیے وہ اپنی مرضی پوری ہونے تک جاری رکھیں گے ۔‘ذرائع کے مطابق، ٹرمپ اور پوتن کے درمیان کئی بار ٹیلی فونک گفتگو اور امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے روس دورے کے باوجود پوتن سمجھتے ہیں کہ ابھی تک امن منصوبے کی بنیاد پر کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع نے کہا کہ‘ پوتن ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور وِٹکوف کے ساتھ ان کی بات چیت بھی اچھی رہی، لیکن روس کے مفادات سب سے اوپر ہیں۔