ٹریفک جرمانہ کی رقم میں بھاری اضافہ، یکم سپٹمبر سے عمل آوری

   

Ferty9 Clinic

شہر کے متعدد مقامات پر شعور بیداری ہورڈنگس، ڈی سی پی ٹریفک بابو راؤ کا بیان

حیدرآباد۔22اگسٹ(سیاست نیوز) ٹریفک پولیس کے نئے اصول اور قوانین کے اعتبار سے جرمانہ کی رقم میں بھاری اضافہ کیا جاچکا ہے جو کہ یکم ستمبر سے قابل عمل ہوگا۔ نئے جرمانوں کے اعتبار سے اب سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنے والوں اور ہیلمٹ نہ پہن کر گاڑی چلانے والوں پر 1000 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ ایمبولینس اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والی گاڑیوں کو راہ فراہم نہ کرنے والے موٹر سیکل رانوں اور موٹر کار ڈرائیورس پر 10ہزار روپئے تک جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں محکمہ پولیس کی جانب سے عوام میں شعور بیداری ہورڈنگس لگاتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا جا رہاہے کہ یکم ستمبر سے جرمانوں کی رقم میں بھاری اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹریفک پولیس نے ’’ٹریفک قوائد پر عمل کرو اور پیسے بچاؤ‘‘ مہم شروع کی ہے جس کے تحت محکمہ ٹریفک پولیس شعور بیدار کر رہی ہے کہ اگر کوئی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگااور جو ٹریفک قوائد کی پابندی کرتا ہے وہ اس جرمانہ کی رقم کو بچا سکتا ہے۔ ٹریفک کے بھاری چالانات کے سلسلہ میں جاری شعور بیداری مہم کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور سڑک حادثات سے محفوظ رہنے کیلئے اقدامات کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جناب کے بابو راؤڈپٹی کمشنر پولیس ٹریفک نے بتایا کہ ٹریفک پولیس کی مہم کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ٹریفک قواعد پر عمل آوری کے ذریعہ خود کو محفوظ رکھیں اور اپنے پیسے بھی بچائیں۔ انہو ںنے کہا کہ مرکزی حکومت کے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کو دی گئی منظوری پر ریاست میں عمل آوری کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے والوں کو 10000 روپئے جرمانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ سیل فون ڈرائیونگ پر 5000روپئے جرمانہ عائد کیاجائے گا۔سگنل توڑنے اور دو سے زائد کو ٹو وہیلر پر بٹھا کر گاڑی چلانے پر 5000روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔بھاری جرمانے عائد کرنے سے قبل محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر اور ریاست کے مختلف مقامات پر شعور بیداری مہم چلائی جا رہی ہے اور عوام کو ان چالانات کی رقومات سے آگاہ کیا جانے لگا ہے۔