ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے واقعات میں قومی سطح پر اضافہ

   

شعور بیداری مہم کے باوجود حادثات میں کمی نہیں، ہیلمٹ کے عدم استعمال کے 41 لاکھ مقدمات درج
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانہ پر شعور بیداری مہم کے باوجود ملک میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے معاملات میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ نے گزشتہ ماہ ملک بھر میں روڈ سیفٹی کے موضوع پر شعور بیداری کا اہتمام کیا جس میں نوجوان خاص طور پر طلبہ برادری کو ٹریفک قواعد پر عمل آوری کی ترغیب دی گئی تاکہ حادثات سے اموات کی تعداد کو کم کیا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق ٹریفک حادثات کی اہم وجہ ہیلمٹ کا عدم استعمال، رانگ سائیڈ ڈرائیونگ، اوور اسپیڈ، ٹرپل رائیڈنگ، سگنل جمپنگ، سیل فون ڈرائیونگ اور ڈرنک اینڈ ڈرائیونگ شامل ہیں۔ فور وہیلرس کے معاملہ میں دیکھا گیا ہے کہ حادثہ کی صورت میں سیٹ بیلٹ کے عدم استعمال کے نتیجہ میں اموات واقع ہوئی ہیں۔ 2024ء کے مقابلہ 2025ء میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ درج کیا گیا۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ کیسیس ہیلمٹ کے عدم استعمال پر درج کئے گئے۔ 2024ء میں کیسیس کی تعداد 25 لاکھ 62 ہزار 222 تھی جو 2025ء میں بڑھ کر 41 لاکھ 28 ہزار 590 ہوچکی ہے۔ رانگ سائیڈ ڈرائیونگ کیسیس میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ 2024ء میں 4 لاکھ 65 ہزار 242 کیسیس درج کئے گئے تھے جو 2025ء میں بڑھ کر 6 لاکھ 7 ہزار 297 ہوچکے ہیں۔ اوور اسپیڈ ڈرائیونگ کے معاملہ میں 2024ء میں 66529 کیسیس درج کئے گئے تھے جو 2025ء میں بڑھ کر 234929 ہوچکے ہیں۔ ٹرپل رائیڈنگ کے جرم کے تحت 2025ء میں 175894 کیسیس درج کئے گئے جبکہ ایک سال قبل کیسیس کی تعداد 153328 درج کی گئی تھی۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار میں دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے میٹرو شہروں اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک خلاف ورزیوں کا پتہ چلانے کے لئے آرٹیفیشل انٹلی جنس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اہم شاہراہوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے باوجود ٹریفک قواعد پر عمل آوری کے رجحان میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کے مقدمات میں بنگلور ملک میں سرفہرست ہے۔ بنگلور پولیس نے آرٹیفیشل انٹلی جنس کیمروں کے ذریعہ ٹریفک خلاف ورزیوں کے 87 فیصد معاملات کی نشاندہی کی ہے اور پولیس کی جانب سے اُن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔1