خالصتانی حامی جلیان والا باغ بنانا چاہتے تھے:پولیس ۔بی جے پی لیڈر نے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے اکسایا
نئی دہلی : کسانوں کے ٹریکٹر پریڈ کے دوران دہلی میں تشدد کے واقعات کیخلاف دہلی پولیس نے 25 ایف آئی آر درج کئے ہیں اور 19 افراد کو گرفتار کیا ہے۔دہلی پولیس نے کہا کہ خالصتانی حامی /26 جنوری کو یہاں پر جلیان والا باغ دوم بنانا چاہتے تھے ۔ اس تشدد میں 300 پولیس ملازمین زخمی ہوئے ۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ اس تشدد کے کئی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیجیس کی جانچ کی گئی ہے اور تشدد میں ملوث کسانوں کی شناخت کی جارہی ہے ۔ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ لال قلعہ اور کسانوں کے احتجاجی مقامات کے بشمول دارالحکومت دہلی میں کئی مقامات پر سکیورٹی بڑھادی گئی ۔ اضافی پیراملٹری فورس کو تعینات کیا گیا ہے ۔ کسانوں نے مودی حکومت کے زرعی قوانین کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے منگل کے دن ٹریکٹر پریڈ نکالی تھی ۔ کسانوں کے احتجاجی یونینوں نے کی سرپرست تنظیم سمیوکتا کسان مورچہ نے آج ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تشدد کے بارے میں غور و خوص کیا ۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تشدد ہمارے احتجاج کو ناکام بنانے کی سازش کی گئی تھی ۔ ذرائع نے بتایا کہ لال قلعہ پر چڑھ کر پرچم لہرانے کیلئے بی جے پی لیڈر اور پنجاب کے اداکار دیپ سدھو نے احتجاجیوںکو اکسایا تھا ۔ جن کسان گروپوں نے تاریخی لال قلعہ میں داخل ہوکر پرچم لہرائے ان کی شناخت کی جارہی ہے ۔ اس اداکار نے لال قلعہ سے راست ویڈیو بھی پوسٹ کی تھی ۔ ویڈیو بھی بتایا گیا کہ انہوں نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ ہم نے نشان صاحب پرچم لہرایا ہے ۔ لال قلعہ پر اس احتجاج کو ہم نے جمہوری حق کے ساتھ اپنا پرچم بلند کیا ۔ اپنی اس حرکت کی مدافعت کرتے ہوئے دیپ سدھو نے کہا کہ آخر وہ لاکھوں کسانوں کو کس طرح اکسا سکتے ہیں ۔ میں خود بھی احتجاجی کسانوں میں شامل تھا ۔ اس تبدیلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پرشانت بھوشن نے لکھا کہ یہ وہی دیپ سدھو ہے جو مودی اور شاہ کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے ۔ اس نے ہی لال قلعہ پر ہجوم کی قیادت کی اور سکھوں کے مذہبی پرچموں کو لہرایا ۔ گرداس پور کے ایم پی اور بالی ووڈ اداکار سنی دیول کا قریبی ساتھی سمجھے جانے والے دیپ سدھو 2019 ء لوک سبھا انتخابات کے دوران الیکشن انچارج بھی تھا ۔ تاہم گزشتہ سال ڈسمبر میں ہی سنی دیول نے سدھو سے اظہار لاتعلقی کرلیا ۔ سمیوکتا کسان مورچہ کے اجلاس میں اس تشدد کی مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں 32 کسان یونینوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ سنگھو سرحد پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے ۔ ٹریکٹر ریالی کے دوران ہلاک ہونے والے کسان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے ۔ وہ حال ہی میں آسٹریلیا سے اپنے آبائی وطن واپس ہوا تھا ۔ یو پی پولیس نے کہا کہ 26 سالہ نوجوان کے پوسٹ مارٹم سے توثیق ہوئی ہے کہ اس کی موت ٹریکٹر حادثہ میں شدید زخم آنے سے ہوئی ہے ۔ کسان تنظیموں نے کہا کہ اس تشدد میں ان کے کاز کو دھکا پہنچایا ہے ۔ کسانوں کا احتجاج پرامن تھا ۔ یونینوں کا اس تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔اس تشددمیں 45 بسوں کو نقصان پہنچا۔