ٹمریز کے 10 سالہ دور کی آڈٹ کرانے کا مطالبہ: اکبر الدین اویسی

   

بی آر ایس کے دور حکومت میں ٹیچرس کے تقررات اور فرنیچر کی خریدی میں فنڈس کا بڑے پیمانے پر تغلب
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ بی آر ایس 10 سالہ دور حکومت کے دوران ٹمریز میں بڑے پیمانے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں، ٹیچرس کے تقررات اور فرنیچر کی خریدی میں فنڈس کا بڑے پیمانے پر تغلب ہوا ہے حکومت اس کی تحقیقات کرائے اور 10 سال کی آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اردو میڈیم کی مخلوعہ جائیدادوں کو ڈی ریزرو کرتے ہوئے اردو میڈیم کے امیدواروں کے ساتھ انصاف کرے۔ پرانے شہر کے سرکاری اسکولس میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اسمبلی میں مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے صرف اسکولس قائم کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ریسیڈنشیل اسکولس کیلئے ذاتی عمارتیں اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں تعلیم کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔ محکمہ تعلیم کو ترقی دینے کیلئے کانگریس حکومت کچھ کررہی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بی آر ایس حکومت کے دوران ٹمریز میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اس کو منظر عام پر لانا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گذشتہ اسمبلی سیشن کے دوران میں ( اکبر الدین اویسی ) نے ٹمریز اسکولس کے 10 سالہ دور کی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا مگر صرف ایک سال کی آڈٹ کرائی گئی۔ سی اے جی کو اکاؤنٹس نہیں دیئے گئے یہ بھی حکومت کا ادارہ ہے۔ کانگریس حکومت نے ایک سال کے دوران محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر تقررات کئے جس میں 1000 یا اس سے زیادہ اردو جائیدادوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا مگر ریزرویشن پالیسی کی وجہ سے 400 سے زیادہ جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں ایسی جائیدادوں کو ڈی ریزرو کیا گیا تھا۔ حکومت اس مسئلہ پر ہمدردانہ غور کرے، اردو میڈیم جائیدادوں کے ساتھ انصاف کرے۔ بی آر ایس دور حکومت میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا مگر اردو کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ کانگریس نے اردو میڈیم کیلئے میگا ڈی ایس سی کا وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرے۔ مڈ ڈے میلس ورکرس کی تنخواہوں میں اضافہ کرے۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ وہ تنقید برائے تعمیر کررہے ہیں۔ والدین بچوں کو سرکاری اسکولس میں داخلہ کیوں نہیں دلارہے ہیں حکومت اس پر سنجیدگی سے غورکرے۔ سرکاری اسکولس کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ سرکاری اسکولس کے پرنسپلس اور ٹیچرس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ جس مقصد کیلئے انیس الغرباء کی نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی وہ مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔2