واشنگٹن۔ 27 ستمبر (یو این آئی) امریکہ کی جانب سے غزہ میں حکومت کی تبدیلی اور نئی انتظامیہ کے قیام سے متعلق ایک نیا اور حیران کن منصوبہ سامنے لایا گیا ہے ۔ میڈیاکے مطابق امریکہ اس منصوبے کی سربراہی ٹونی بلیئر کے سپرد کر رہا ہے جسے غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (جیٹا) کا نام دیا گیا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق یہ ادارہ (جیٹا) پانچ سال تک غزہ کی اعلیٰ سیاسی اور قانونی اتھارٹی کے طور پر کام کرے گا اور فلسطین اتھارٹی کا نعم البدل بھی ہوسکتا ہے جب کہ اس میں حماس کا بھی کوئی کردار نہیں ہوگا۔ برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل تیمور لیستے اور کوسوو جیسے خطوں میں بننے والی عبوری حکومتوں سے متاثر ہے ۔ ابتدائی طور پر جیٹا کا ہیڈکوارٹر مصر کے شہر العریش میں قائم کیا جائے گا بعد ازاں یہ اقوام متحدہ کی منظوری اور ایک کثیر القومی امن فورس کے ہمراہ غزہ میں داخل ہوگی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہم غزہ جنگ بندی کے حوالے ایک معاہدے کے قریب ہیں۔