ٹوکیو اولمپک میں میڈل کیلئے تکنیک پر توجہ مرکوز: سندھو

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔3 جنوری( سیاست ڈاٹ کام) تنقید یا توقعات کے بوجھ سے عالمی چمپئن شٹلر پی وی سندھو پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور انہوں نے کہا کہ وہ اس سال ٹوکیو اولمپکس میں میڈل جیتنے کے لیے اپنے کھیل کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔سندھو نے 2019 میں عالمی چمپئن شپ کا خطاب جیتا لیکن سیزن کے باقی ٹورنمنٹوں میں زیادہ تر وہ ابتدائی دور سے آگے بڑھنے میں ناکام رہیں۔ ان میں گزشتہ ماہ عالمی ٹور فائنلس بھی شامل ہیں جس میں وہ اپنا خطاب نہیں بچا پائیں۔سندھو نے کہاکہ عالمی چمپئن شپ میرے لئے واقعی شاندار رہی لیکن اس کے بعد میں پہلے دور میں ہارتی رہی۔ اس کے باوجود میں نے خود کو مثبت بنائے رکھا۔ اپنے تمام میچ جیتنا یہ ممکن نہیں ہے۔کچھ مواقع پر آپ بہترین کھیل دکھاتے ہو لیکن کبھی آپ غلطیاں بھی کرتے ہو۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ان غلطیوں سے بہت کچھ سیکھامیرے لیے مثبت بنے رہنا اور اثر دار واپسی کرنا ضروری ہے۔سندھو نے کہا کہ وہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تکنیک پرکام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھ سے یقینی طور پر کافی امیدیں ہوں گی لیکن دباؤ اور تنقید مجھے متاثر نہیں کرتی کیونکہ لوگ مجھ سے ہمیشہ جیت کی امید کرتے ہیں۔ اولمپکس کسی کے لیے بھی حتمی ہدف ہوتا ہے۔ہم ٹیکنالوجی اور مہارت پرکافی کام کر رہے ہیں اور سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے ہوگا اور اولمپک میں سب کچھ اچھا ہو جائے گا۔ ریو اولمپکس میں سلور میڈل جیتنے والی 24 سالہ حیدرآبادی کھلاڑی کے پاس ٹوکیومیں تمغہ جیت کر پہلوان سشیل کمار کی برابری کرنے کا موقع رہے گا جنہوں نے 2008 اور 2012 میں اولمپک میڈل جیتے تھے۔سندھو نے کہاکہ سشیل واقعی ملک کے لئے بہت اچھا کام کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں بھی ٹوکیو میں میڈل جیتنے میں کامیاب رہوں گی۔میں دوسروں کے بارے میں نہیں سوچتی۔میں قدم بہ قدم آگے بڑھنے میں یقین کرتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے سخت پریکٹس اور اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ آسان نہیں ہو گا۔ اس مرتبہ 2020 میں ہم جنوری میں ملائیشیا اور انڈونیشیا سے شروع کریں گے۔