ٹی آر ایس سے برطرف کی صورت میں نئی پارٹی کے قیام کا امکان

   

ایٹالہ راجندر کی مختلف شخصیتوں سے مشاورت، سابق وزیر کے قریبی حامی رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی پر حکومت کی نظریں
حیدرآباد۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر اور ان کے حامیوں کو ٹی آر ایس کی جانب سے ان کے خلاف اگلی کارروائی کا انتظار ہے جس کی بنیاد پر وہ آئندہ سیاسی حکمت عملی طئے کریں گے۔ راجندر کی ٹی آر ایس سے برطرفی کے اندیشوں کے پس منظر میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین کی جانب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پسماندہ طبقات کی مختلف تنظیموں کے علاوہ ٹی آر ایس کے ناراض قائدین بھی ایٹالہ راجندر سے ربط میں ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی ، کاکتیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز کے طلباء تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں نے بھی راجندر سے ملاقات کی اور کے سی آر حکومت کے خلاف جدوجہد میں تعاون کا یقین دلایا۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس سے برطرفی کے بعد راجندر نئی سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان کرسکتے ہیں۔ کانگریس، ٹی آر ایس، تلگودیشم کے علاوہ مختلف تنظیموں کے قائدین تلنگانہ میں کے سی آر سے مقابلہ کیلئے نئی پارٹی کے قیام کی تجویز پیش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کو عوام متبادل کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔ راجندر جو تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کے میدان میں اترنے سے کئی جماعتوں کے قائدین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض آئی اے ایس، آئی پی ایس عہدیداروں نے بھی راجندر سے ٹیلی فون پر بات کی اور موجودہ صورتحال میں نئی سیاسی جماعت کے قیام کی تائید کی۔ حضورآباد سے حیدرآباد واپسی کے بعد کئی قائدین نے راجندر سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ راجندر اور ان کے حامیوں کو ٹی آر ایس کے اگلے قدم کا انتظار ہے کیونکہ کریم نگر سے تعلق رکھنے والے قائدین راجندر کی پارٹی سے برطرفی کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ بنارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ایم پی ریونت ریڈی بھی راجندر سے ربط میں ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر ایم کودنڈا رام اور جہد کار تین مار ملنا نے بھی راجندر کی تائید کا اعلان کیا ۔ اسی دوران ٹی آر ایس کی جانب سے راجندر کے قریبی حامیوں پر نظر رکھی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ چیوڑلہ رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی ٹی آر ایس کا اگلا نشانہ ہونگے۔ رنجیت ریڈی کا شمار راجندر کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ رنجیت ریڈی کا تعلق کریم نگر سے ہے لیکن وہ رنگاریڈی کی چیوڑلہ پارلیمانی نشست سے منتخب ہوئے ۔ انہیں لوک سبھا ٹکٹ دلانے میں راجندر کا اہم رول رہا۔ راجندر نے حالیہ دنوں میں بارہا اس بات کا اعتراف کیا کہ رنجیت ریڈی کے ساتھ ان کے بزنس ریلیشن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس سے رنجیت ریڈی کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے اور اگر وہ راجندر کی تائید کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں بھی پارٹی کی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔