یوم جمہوریہ کے موقع پر پیش آئے تشدد کی مذمت ۔ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی لیڈر کا بیان
حیدرآباد۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت کرنے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ان بلوں کے تعلق سے اپنی مخالفت کو پیش کریگی اور ریاست کو درپیش دوسرے مسائل کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا ۔ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کے کیشو راو نے دہلی میں یہ بات بتائی ۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ 26 جنوری کو کسانوں کے احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کا بھی کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ کیشو راو نے واضح کیا کہ ٹی آر ایس نے نئے زرعی قوانین پر اپنے موقف کو پہلے ہی واضح کردیا ہے اور پارلیمنٹ میں ان کی مخالفت کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ پارٹی نے اصرار کیا ہے کہ ان قوانین کو نظرثانی کیلئے پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جانا چاہئے لیکن مرکزی حکومت نے اس پر کان نہیں دھرے ہیں۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ کسانوں کے احتجاج کے دوران جو احتجاج ہوا ہے وہ اچھا نہیں تھا اور اس کی سبھی کو مذمت کرنی چاہئے ۔ کیشو راو نے کہا کہ حالانکہ اپوزیشن جماعتوں نے ان کی پارٹی سے بھی کہا تھا کہ ان کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے مشترکہ سشن سے صدرجمہوریہ کے خطاب کا بائیکاٹ کیا جائے لیکن ہم نے اس سے انکار کردیا کیونکہ اس سے یہ غلط پیام جاتا ہے کہ ہم اس تشدد کی حمایت کر رہے ہیں۔ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی لیڈر نے کسان تنظیموں سے مذاکرات جاری رکھنے مرکز کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور مرکز سے خواہش کی کہ تشدد کو بہانہ بنا کر کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ کیشو راو نے کہا کہ زرعی شعبہ ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ریاست اس شعبہ میں فلاحی و ترقیاتی سرگرمیوں پر عمل آوری کرتے ہوئے دوسروں کیلئے مثال بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ اقل ترین امدادی قیمت کو شامل کرے جس کا احتجاجی کسان مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو درپیش مسائل کو جنہیں تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون میں شامل کیا گیا تھا‘ ٹی آر ایس پارٹی پارلیمنٹ میں اٹھائیگی ۔ مسٹر کے کیشو راو نے کہا کہ انکی پارٹی ٹی آر ایس نے او بی سی تحفظات و خواتین کے تحفظات پر مباحث کا مطالبہ کیا کیونکہ یہ مسئلہ سات سال سے زیر التواء ہے ۔