ٹی آر ایس کا منشور جاری ،شہر میں عنقریب مفت وائی فائی

,

   

٭ میٹرو ریل کی توسیع٭ 200 مثالی مارکٹس کا قیام٭اقلیتوں کی ترقی٭ موسی ندی کو خوبصورت بنانے کا وعدہ

حیدرآباد۔ ٹی آر ایس نے جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے منشور کی اجرائی عمل میں لائی ہے۔ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے معاملہ میں عہد کی پابند رہنے کا اعلان کرتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرنے اور تمام عیدین و تہواروں کو سرکاری سطح پر منانے کے ساتھ دو دن کی سرکاری تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے ان کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا ہے۔ عنقریب سارے شہر حیدرآباد میں مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔1900 کروڑ روپئے کے مصارف سے 280 کیلو میٹر تک مشن بھگیرتا کی پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ 4 نئے آڈیٹوریم تعمیر کئے جائیں گے۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں موجود تمام لائبریریز کو عصری سہولتوں سے لیس کیا جائے گا۔ حیدرآباد میں عصری سہولتوں پر مشتمل اسٹیڈیمس تعمیر کرتے ہوئے کھیل کود کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ 130 کروڑ روپئے کے مصارف سے 200 مثالی مارکٹس قائم کئے جائیں گے۔ عثمان ساگر، حمایت ساگر، حسین ساگر ( ٹینک بنڈ ) کے علاوہ موسی ندی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہوئے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کی سماجی ، معاشی ، تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کمیشن آف انکوائریز نے حکومت کو جو سفارشات پیش کی ہیں اس پر عمل آوری کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ اسکولس اور کالجس میں اردو کو فرسٹ لینگویج کے طور پر پڑھنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے 500 اقلیتی طلبہ کو حکومت نے مالی امداد کی ہے۔ اقلیتی طلبہ کیلئے ہر ضلع میں ایک کے لحاظ سے 10 آشرام اسکولس اور 10 جونیر کالجس منظور کئے گئے ہیں۔ اسکولس میں500 اور کالجس میں 100 طلبہ کو قیام کرنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی امداد کی جارہی ہے۔ 50 فیصد سبسیڈی کے ساتھ اقلیتی بیروزگار نوجوانوں میں 1000 آٹوز تقسیم کئے گئے۔ اقلیتی طلباء و طالبات کو ٹاسک کے ذریعہ معیاری پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہے۔