ٹی آر ایس کے پانچ سالہ دور حکومت میں حیدرآباد کی تر قی صفر

   

ٹی آر ایس کو کھلے مباحث کا چیلنج، ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کے پانچ سالہ دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی صفر رہی ہے ۔ ملکاجگیری میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے شہر کی ترقی کے مسئلہ پر ٹی آر ایس قائدین کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے کانگریس پارٹی نے جو قدم اٹھائے اس کے بعد ٹی آر ایس نے شہر کو نظر انداز کردیا ۔ ریونت ریڈی نے قطب اللہ پور اسمبلی حلقہ کے تحت تین میونسپالٹیز کے مجوزہ انتخابات کے سلسلہ میں پارٹی کارکنوں کا اجلاس طلب کیا اور انہیں ابھی سے چوکس رہنے کی ہدایت دی ۔ ضلع کانگریس کے صدر سری سیلم گوڑ ، اے آئی سی سی سکریٹری بوس راجو ، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر ، سابق ایم ایل سی رنگا ریڈی کے علاوہ کسم کمار ، این سریدھر اور دیگر قائدین نے شرکت کی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کی ترقی کے علاوہ ٹی آر ایس کے پانچ سالہ دور حکومت میں شہر کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر کھلے مباحث کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہر کی ترقی تو نہیں ہوئی لیکن ٹی آر ایس قائدین اراضیات پر قبضوں اور حکام کی اجازت کے بغیر تعمیرات میں مصروف ہیں۔ پانچ سال قبل ٹی آر ایس قائدین کے پاس کچھ نہیں تھا لیکن پانچ برسوں میں وہ کروڑ پتی بن گئے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو مسترد کردے تاکہ علاقہ کی ترقی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر نگر میں ڈمپنگ یارڈ کے سلسلہ میں عوام کے خدشات کو نظر انداز کردیا گیا۔ ایک ہی مقام پر ڈمپنگ یارڈ رکھنے کے بجائے شہر کے مضافاتی علاقوں میں علحدہ سنٹرس قائم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جواہر نگر ڈمپنگ کے سبب علاقہ میں گندگی پھیل رہی ہے جس سے عوامی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔