گورنر سے مداخلت کی اپیل، اپوزیشن ارکان کو بھاری رقومات کا لالچ
حیدرآباد۔ 27 جنوری (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی مدھو یاشکی گوڑ نے بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس پر دھاندلیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی نے انتخابات کی اہمیت کو گھٹادیا ہے۔ بھاری رقومات خرچ کرتے ہوئے رائے دہندوں کو خریدنے کی کوشش کی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ انتخابی عمل میں رائے دہندوں کو اپنی پسند کے امیدوار منتخب کرنے کا حق دیاجانا چاہئے لیکن ٹی آر ایس نے انتخابی عمل کو ناپاک بنادیا ہے۔ ایکس افیشیو ممبرس کے نام پر اپوزیشن کو میونسپلٹیز میں کامیاب ہونے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ انتخابات سے قبل ہی میونسپلٹی یا کارپوریشن کا آپشن الیکشن کمیشن کو دیں لیکن حکومت ایسی میونسپلٹیز میں ارکان کونسل اور پارلیمنٹ کا استعمال کررہی ہے جہاں اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور کونسل کے ووٹ کے ذریعہ چیرپرسن کے عہدے پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس اور بی جے پی کے اکثریتی میونسپلٹیز میں یہی حرکت کی گئی۔ مدھو یاشکی نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں جمہوریت کے قتل کو روکنے کے اقدامات کریں۔ ریاست میں جاری غیر جمہوری پالیسیوں پر مرکز کو مداخلت کرنی چاہئے۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن اور پولیس کے رویہ کا جائزہ لے۔ سابق رکن اسمبلی ملریڈی رنگاریڈی نے کہا کہ ابراہیم پٹنم کے رکن اسمبلی اراضیات کے قبضوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ کانگریس کے کامیاب کونسلرس کو بھاری رقم دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس برسر اقتدار پارٹی کے الۂ کار کے طور پر کام کررہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی غیر جمہوری سرگرمیوں پر ریاستی گورنر کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔