!ٹی آر ایس، مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی

   

ضلع ناندیڑ کے منتخب نمائندوں و دیگر افراد پر مشتمل وفد کی ملاقات کے بعد چیف منسٹر کا غور شروع

حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی مہاراشٹرامیں ہونے جارہے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی! چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ریاست مہاراشٹرا میں موجود ریاست دکن کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام تلنگانہ میں انضمام کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ریاست تلنگانہ کی اسکیمات مہاراشٹرا میں شروع کی جائیں یا ان کے علاقہ کو ریاست تلنگانہ میں ضم کیا جائے۔پڑوسی ریاست مہاراشٹراکے ضلع ناندیڑ کے پانچ مختلف اسمبلی حلقہ جات سے منتخبہ نمائندوں و دیگرافراد پر مشتمل ایک وفد نے ریاست مہاراشٹرا کی حکومت کے خلاف احتجاجی رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے اپنا موقف واضح کیا کہ آیا وہ ریاست تلنگانہ میں متعارف کرائی گئی مختلف فلاحی اسکیمات کو انکے متعلقہ مواضعات میں بھی متعارف کروائیں یا پھر انکے مواضعات کو ریاست تلنگانہ میں ضم کردیں۔ اس ضمن میں منتخبہ نمائندوں ودیگر نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وہ ریاست میں جلد منعقد ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات میں اپنے اس مطالبہ کے ساتھ حصہ لینگے۔مہاراشٹراسے تعلق رکھنے والے ان منتخبہ عوامی نمائندوں نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹرکے چندر شیکھرراؤ سے ملاقات کرتے ہوئے واقف کروایا۔ وفد نے چیف منسٹر سے کہا کہ اگر وہ اجازت دیتے ہیں تو وہ ٹی آر ایس پارٹی کے ٹکٹ پرمہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ سرحدی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع ناندیڑ کے پانچ مختلف حلقہ جات بشمول نلگاؤں، بھوکر، دیگلور، کنوٹ اور ہتھگاؤں کے قائدین اس ملاقات میں موجود تھے۔ موضع بابلی کے سرپنچ بابوراؤ گنپت راؤکدم کی زیرقیادت اس وفد نے چیف منسٹر سے ملاقات کے دوران حکومت مہاراشٹرا پر برہمی ظاہر کی ۔ ملاقات کرنے والے وفد کے ذمہ داروں نے بتایا کہ سرحد سے جڑے رہنے کے باوجود مہاراشٹرا کے مواضعات کی حالت ابتر ہے اور ریاست تلنگانہ کے مواضعات میں کسان کافی خوش ہیں جبکہ ہمارے کسان بہت ہی بری صورتحال سے دوچار ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں کسانوں کو ہر سال رعیتو بندھو اسکیم کے تحت فی ایکر 10,000 روپئے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے جبکہ پڑوسی ریاست میں ایسی کوئی اسکیم موجود نہیں ہے۔ ریاست تلنگانہ میں غریبوں کو ہر ماہ 2016 روپیہ بطور وظیفہ اداکئے جا رہے ہیں اور مہاراشٹرا میں محض 600 روپیہ ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں کسانوں کو چوبیس گھنٹے مفت اور معیاری برقی سربراہ کیجاتی ہے جبکہ ہماری ریاست میں محض چھ گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جا رہی ہے۔ضلع ناندیڑ کے قائدین نے مزید کہا کہ ’جہاں تک آبپاشی کے لئے پانی کی سربراہی کا تعلق ہے تووہ کافی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔حکومت تلنگانہ نے کالیشورم پراجکٹ کے ذریعہ ‘ایس آر ایس پی’ کو وافر مقدار میں پانی سے لبریزکیا تب ہمیں کسی حد تک بیاک وارٹرس کے ذریعہ فائدہ پہنچا‘۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی دھرم آباد منڈل کے چالیس مواضعات کی عوام نے اپنے متعلقہ مواضعات کو ریاست تلنگانہ میں ضم کرنے سے متعلق ایک قرارداد منظور کی تھی۔ تب اس قرارداد کے جواب میں حکومت مہاراشٹرا نے ان مواضعات کے لیے چالیس کروڑ روپئے فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے 12 کروڑ روپئے فوراً جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ ان قائدین نے حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مواضعات میں بھی ایسی ہی اسکیمات کومتعارف کروائیں جیسی ریاست تلنگانہ میں متعارف کی گئی ہیں اور اگر ایسا نہیں کیا جاسکتا تو ان علاقوں کو تلنگانہ میں ضم کرنے کا اعلان کردیا جائے۔مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے ان سیاستدانوں نے کہا کہ وہ اسی اعلان کے ساتھ آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے اوراگرکے سی آر انہیں موقع دیتے ہیں تووہ ٹی آرایس پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑنے کو ترجیح دیںگے۔ ان قائدین نے مزید کہا کہسابقنظام حکومت میں وہ ریاست حیدرآباد کا ہی حصہ ہوا کرتے تھے اور آج تک بھی اراضی ریکارڈس کی اسی بنیاد پر تنقیح کی جاتی ہے چونکہ ریاست تلنگانہ اوریہاں کی عوام کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات رہے ہیں تو ایسے میں ہمارا ریاست تلنگانہ میں ضم ہونے کا مطالبہ بھی جائز ہے۔ ان قائدین نے مزید کہا کہ بہت جلد وہ کانگریس، بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی قائدین کے ہمراہ حیدرآباد میں چیف منسٹر سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔اس موقع پر چیف منسٹرتلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ’’ضلع ناندیڑ کے ان پانچ اسمبلی حلقہ جات کے علاوہ بھیونڈی، شولاپوراور راجرا علاقوں کے لوگ بھی ٹی آرایس پارٹی ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں اوراس ضمن میں بہت جلد فیصلہ لیا جائے گا‘‘۔چیف منسٹر نے مزید کہا کہ تلنگانہ کی طرز پر ریاست مہاراشٹرا میں بھی فلاحی اسکیمات پرعمل آوری کاعوامی مطالبہ واجبی ہے اور حکومت مہاراشٹرا کوعوام کے اس جائزمطالبہ کو قبول کرلینا چاہئے۔