ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس حکومت کے رویہ کے خلاف سخت ناراض

   

کارپوریشن انتظامیہ کو ہڑتال کی نوٹس، بی ایم ایس قائدین کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 14 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو فی الفور حکومت میں ضم کرنے کے مطالبہ پر اور ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین ورکرس کے دیرینہ حل طلب مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کے مطالبہ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ورکرس یونین (بی ایم ایس) یونین قائدین نے کارپوریشن انتظامیہ کو ہڑتال کی نوٹس دی ہے اور ٹی آر ایس آر ٹی سی کو حکومت کو فوری طور پر ضم کرلینے کا مطالبہ کیا گیا۔ نوٹس کے بعد ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس یونین صدر و جنرل سکریٹری مسرس کے وینکٹ چاری، پی رمیش کمار نے کہا کہ سال 2017ء کے پے کمیشن پر ابھی تک نظرثانی نہ کرکے عمل آوری نہ کرنے کی وجہ سے ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس حکومت کے رویہ پر کافی برہم ہیں کیونکہ حکومت نے فوری طور پر کوئی اقدامات نہ کرکے آر ٹی سی ورکروں کے ساتھ دھوکہ کیا جس کی وجہ سے آر ٹی سی ورکرس کافی مشکلات و مصائب سے دوچار ہیں۔ اسی دوران مسٹر بی وینو گوپال راؤ، ریاستی نائب صدر ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس یونین نے بتایا کہ ریاست میں غیرقانونی طور پر چلائی جانے والی ٹورسٹ بسوں کا تدارک کرنے پر کارپوریشن کو یومیہ 1000 کروڑ روپیوں کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو گذشتہ سال سٹلمنٹس نہ ہونے کی وجہ سے بھی ورکروں کو کافی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ٹی سی کے قرضہ جات کی سود رقومات کو یکمشت، سٹلمنٹ کے تحت حکومت رقومات ادا کرنا چاہئے۔ بتایا جاتا ہیکہ سی سی ایس، بی ایف، ایس آر بی ایس ورکروں کی بچت رقومات کو فی الفور آر ٹی سی انتظامیہ ادا کرنے، آر ٹی سی استعمال کرنے کے ڈیزل پر سیلس ٹیکس میں کمی کرکے ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اقدامات کرنے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا۔ آر ٹی سی یونین قائدین نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین اور ورکرس کے دیرینہ حل طلب مسائل کی عاجلانہ یکسوئی نہ کئے جانے کی صورت میں 25 ستمبر کے بعد کبھی بھی اور کسی بھی لمحہ میں آر ٹی سی ملازمین و ورکرس اپنی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کا آغاز کردیا جائے گا۔ اس موقع پر ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس یونین کے قائدین مسٹر آر وینکٹ ریڈی، جی نرسنگ راؤ، بی شریمتی شیواناتھ، ایم چندرا موہن، ناگاراجو، بی سرینوسار یڈی اور راما راجلو وغیرہ بھی موجود تھے۔ اسی دوران تلنگانہ مزدور یونین قائدین نے مطالبات کی یکسوئی کرنے میں ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کے اختیار کردہ رویہ کے خلاف ہی 25 ستمبر کے بعد بڑے پیمانے پر غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کی تمام ٹی ایس آر ٹی سی ورکرس سے پرزور اپیل کی۔