ادارہ کی چھت سے پانی ٹپکنے کی شکایت ، کروڑہا روپیوں کے خرچ سے تزئین و آہک پاشی اکارت ثابت
حیدرآباد۔27اپریل(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں ٹی ۔ہب اور دیگر اداروں کے ذریعہ نوجوانوں کی ترقی اور انہیں مواقع فراہم کرنے کے لئے عمارتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دیتی رہی ہے کہ ریاست تلنگانہ ملک بھر میں واحد ایسی ریاست ہے جو کہ بیرونی سرمایہ کاروں اور باصلاحیت نوجوانوں کے درمیان برج کا کردار ادا کررہی ہے جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے اور اس سہولت کی فراہمی کے نام پر حکومت نے کروڑہا روپئے کے صرفہ سے جو عمارتیں تعمیر کروائی ہیں اور انہیں کارپوریٹ کے طور پر ترقی دیتے ہوئے جو پلیٹ فارم فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس عمارت میں بارش کے پانی اور عمارت کی چھت پر ٹپکوں نے حکومت کے معیار کو واضح کردیا ہے۔کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے عمارتوں کی تعمیر اور ان کی تزئین کے اقدامات کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے تعمیر کئے گئے ٹی ۔ہب میں گذشتہ روز کی بارش کا پانی داخل ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر سے ریاستی حکومت کے تعمیری کاموں کے معیار آشکار ہوئے ہیں جبکہ سابق میں معظم جاہی مارکٹ کی تزئین نو اور آہک پاشی کے معیار اسی طرح بارشوں کے دوران آشکار ہوئے تھے ۔ٹی ۔ہب میں بارش کا پانی ٹپکنے اور داخل ہونے کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئیٹر پر شئیر کئے جانے کے بعد بھارت راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کے دوران ٹوئیٹر وار شروع ہوگئی ۔ بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ٹی ۔ہب میں بارش کے پانی کی تصاویر اور ویڈیو شئیر کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین ‘ وزراء اور کارکنوں سے استفسار کیا گیا کہ تلنگانہ میں کتنے فیصد کمیشن لیا جا رہاہے جس کے نتیجہ میں بارش کا پارنی عصری عمارتوں میں بھی داخل ہونے لگا ہے!ریاستی حکومت کے عہدیداروں اور وزراء سے کئے گئے اس سوال کے جواب میں بی آر ایس کارکنوں نے وندے بھارت ٹرینوں کے حادثہ کا شکار ہونے کے بعد کی تصاویر کو شئیر کرتے ہوئے بی جے پی کارکنوں اور قائدین سے استفسار کرنا شروع کردیا ہے کہ وندے بھارت کے آغاز کے لئے کتنے فیصد کمیشن حاصل کیا گیا ہے!اس کے علاوہ بی آر ایس کارکنوں کی جانب سے پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بارش کے سبب خراب ہونے والی سڑکوں اور شاہراہوں کے علاوہ اترپردیش اور گجرات کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے بی جے پی قائدین سے استفسار کیا جا نے لگا ہے کہ وہ اخلاقیات سے گرے ہوئے ایسے سوال کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ خود ان کی حکومت جن ریاستوں میں ہے وہاں سڑکوں‘ برجس کے علاوہ دیگر تعمیراتی کاموں میں کمیشن حاصل کرنے کے الزامات کا انہیں سامنا ہے اور اس کے کئی شواہد منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ٹوئیٹر پر جاری اس جنگ میں دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے کسی قد آور قائد نے حصہ نہیں لیا ۔م