ٹیکساس میں H-1Bویزے پر نئی بھرتیوں پر پابندی

   

ٹیکساس، 28 جنوری (یو این آئی) ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ریاستی جامعات اور سرکاری اداروں کو ہدایت
جاری کی ہے کہ وہ آئندہ سال تک H-1Bویزا کے تحت نئی بھرتیاں روک دیں۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ویزا پروگرام میں اصلاحات کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے ۔ گورنر گریگ ایبٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والی نوکریوں میں سب سے پہلے ٹیکساس کے شہریوں کو ترجیح دی جانی چاہیے ، اس پابندی کا مقصد H-1Bویزا پروگرام کیلئے قانونی ضوابط تیار کرنا اور ممکنہ اصلاحات کو نافذ کرنے کا وقت دینا ہے ۔ یہ پابندی 31 مئی 2027ء تک نافذ رہے گی تاہم ٹیکساس ورک فورس کمیشن کی اجازت سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے ۔ گورنر کے حکم نامے کے تحت تمام اداروں کو H-1Bویزا ہولڈرز کی تعداد، ملازمتوں کی نوعیت، پیدائش کے ممالک اور ویزا کی مدت سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ ڈیموکریٹ رہنما اور ٹیکساس میکسیکن امریکن لیجسلیٹو کاکس کے چیئرمین رامون رومیرو جونیئر نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جامعات، تحقیقی مراکز اور ہاسپٹلوں میں عملے کی قلت بڑھے گی اور عوامی خدمات متاثر ہوں گی۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس میں سب سے زیادہ H-1Bویزا ہولڈرز یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر اور یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن میں ہیں۔
واضح رہے کہ H-1Bویزا پروگرام 1990ء میں متعارف کروایا گیا تھا جس کے تحت امریکی ادارے خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی افراد کو ملازمت دے سکتے ہیں۔ یہ ویزا 3 سال کیلئے جاری ہوتا ہے اور اس میں مزید 3 سال کیلئے توسیع ممکن ہوتی ہے ۔