ٹیکساس میں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا جائے گا

   

پولیس کواضافی اختیارات کا نیا قانون منظور، عدالتی کشاکش کا امکان
نیویارک: امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایک نئے قانونی مسودے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت پولیس غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرنے والے تارکین وطن کو گرفتار کر سکے گی۔نئے قانون کے تحت ٹیکساس کے مقامی ججز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غیرقانونی تارکینِ وطن کو بے دخل کرنے کے احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ٹیکساس کے گورنر نے پیر کو نئے مسودہ قانون پر دستخط کیے ہیں جس کا اطلاق آئندہ برس مارچ سے ہوگا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن سے متعلق 2010 میں ریاست ایریزونا میں نافذ کیے جانے والے قانون کے بعد کسی بھی ریاست میں تارکینِ وطن کے حوالے سے پولیس کو دیے جانے والے اختیارات کا یہ ڈرامائی اقدام ہے۔ایریزونا کے قانون کو ناقدین نے مجھے اپنے کاغذات دکھاؤ قانون قرار دیا تھا۔ اْس وقت ایریزونا کے قانون کے بیشتر حصوں کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹیکساس کے گورنر کے دستخط سے منظور ہونے والے قانون کو بھی ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ میں تارکینِ وطن کا معاملہ مرکزی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لیکن ریاست ٹیکساس میں برسرِ اقتدار ری پبلکن پارٹی جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں مسلسل اپنے حدود سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔ری پبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے معاملے پر مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔