حیدرآباد۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکہ اندازی مہم کا آغاز کیا گیا لیکن ٹیکہ اندازی کیلئے ہیلت اسٹاف کو مناسب ٹریننگ کی کمی کے نتیجہ میں کورونا سے بچاؤ کے یہ ٹیکے عوام کیلئے فائدہ کے بجائے مضرت رساں ثابت ہورہے ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر کی سنگینی کے بعد ملک بھر میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے مفت ٹیکہ اندازی کا اعلان کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں ٹیکہ اندازی کیلئے ہیلت اسٹاف کو ٹریننگ دی گئی تھی لیکن ٹیکہ اندازی کی مہم میں اضافہ کے بعد غیر تربیت یافتہ ہیلت اسٹاف کی خدمات حاصل کرلی گئی جس کے نتیجہ میں وہ ٹیکہ اندازی کے صحیح طریقہ کار سے ناواقف ہیں جس کا اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کی جانب سے ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں واضح کردیا گیا کہ ٹیکہ خون کی کسی شریان میں نہ پہنچے بلکہ اسے خون کی شریانوں سے پار گوشت کے حصہ میں دیا جائے۔ اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ ٹیکہ اندازی سے قبل ہیلت اسٹاف ٹیکہ اندازی کے مقام کے حصہ کو ہاتھ سے پکڑ کر ٹیکہ دے رہے ہیں جس میں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ ٹیکہ کی خوراک خون کی شریانوں میں پہنچ جائے۔ ماہرین کے مطابق غلط تیکنک کے استعمال سے خون کے انجماد کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق ٹیکہ اندازی کے بعد خون کے انجماد کی وجوہات میں غلط تکنیک کا استعمال عین وجہ ہے۔ جرمنی اور اٹلی کے سائنسدانوں نے مابعد ٹیکہ اندازی ری ایکشن پر سروے کیا جس میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ خون کی شریانوں میں ٹیکہ دیئے جانے سے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ اگر انجکشن کی سوئی گوشت کے اندرونی حصہ تک نہ پہنچے اور وہ خون کی شریانوں سے ٹکرائے تو ٹیکہ خون میں شامل ہوجاتا ہے۔