ڈیوٹی سے غیر حاضری تصور کیا جانا بھی ممکن، محکمہ تعلیم سے ٹیکہ اندازی کی رپورٹ طلب
حیدرآباد: ریاست میں ٹیکہ اندازی کی رفتار تیز ہونے کے بعد کہا جا رہاہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کی شدت کے اثرات تلنگانہ میں اس قدر نہیں دیکھے جائیں گے جس طرح دوسری لہر کے دوران دیکھے گئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت اور محکمہ صحت کے علاوہ بلدیات و کارپوریشنوں کے ذمہ داروں کی جانب سے ٹیکہ اندازی مہم میں شدت پیدا کئے جانے اور مختلف تنظیموں اور سرکردہ شخصیات کی جانب سے ٹیکہ کے حصول کے لئے شہریوں میں شعور اجاگر کئے جانے کے سبب بیشتر علاقوں میں شہری ٹیکہ حاصل کرنے لگے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں کورونا وائرس کا ٹیکہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہونے لگا ہے لیکن ریاست بھر میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے اساتذہ کے لئے چلائی جانے والی خصوصی مہم کے دوران اساتذہ کی بڑی تعداد نے ٹیکہ حاصل نہیں کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ریاست کے تمام اضلاع کے ضلع کلکٹرس کے علاوہ ضلع ایجوکیشنل آفیسر سے اساتذہ کی ٹیکہ اندازی کی رپورٹ طلب کی گئی ہے اور جن اساتذہ نے ٹیکہ نہیں لیا ہے ان کو توجہ دلانے کے بعد سخت کاروائی کئے جانے کے سلسلہ میں غور کیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اجین کے ضلع کلکٹر کی طرح ’ٹیکہ نہیں تو تنخواہ نہیں‘ کے طور پر کاروائی کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اس کے علاوہ دیگر امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیدارو ںکو دی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ جو اساتذہ ٹیکہ حاصل نہیں کئے ہیں انہیں غیر حاضر شمار کرنے کے اقدامات پر بھی غور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں اساتذہ کی ٹیکہ اندازی کیلئے لگائے جانے والے مخصوص کیمپس کے دوران اساتذہ کے حوصلہ افزاء ردعمل ظاہر نہ کئے جانے کے سبب محکمہ کے عہدیداروں میں مایوسی پائی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ اساتذہ ہی اگر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے اور ٹیکہ اندازی میں حصہ لینے سے گریز کریں گے تو وہ کس طرح سے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو ٹیکہ اندازی میں حصہ لینے کے لئے راغب کروائیں گے۔ دونوں شہروں کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں اساتذہ کے لئے شروع کی گئی ٹیکہ اندازی کے نتائج کے سلسلہ میں عہدیدارو ںنے بتایا کہ مجموعی اعتبار سے 40 فیصد اساتذہ نے بھی ٹیکہ اندازی سے استفادہ حاصل نہیں کیا ہے۔