ریاست کی 74% آبادی کشمیری اور ڈوگری بولتے ہیں،اُردو اور انگریزی زبان کے علاوہ ہندی بھی شامل
نئی دہلی : پارلیمنٹ نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں کا ایک بل منظور کرلیا جس میں اردو اور انگریزی کے علاوہ کشمیری ، ڈوگری اور ہندی زبانوں کو بھی شامل کیا گیاہے ۔ جموں اینڈ کشمیر سرکاری زبانوں کا بل 2020ء ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا ۔ اس موقع پر بل پر ایک مباحثہ کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے کہاکہ یہ جموں و کشمیر کی عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا کہ جو زبان وہ بولتے ہیں انہیں سرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی 74 فیصد عوام کشمیری اور ڈوگری زبان بولتے ہیں ۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں اردو زبان بولنے والوں کا تناسب سب صرف 0.16% تھا جبکہ ہندی بولنے والوں کا تناسب 2.3% تھا ۔ جی کشن ریڈی نے مزید کہا کہ حکومت اس خطہ میں دیگر مقامی زبانوں جیسے پنجابی ، گرجری اور پہاڑی کو فروغ دینے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے ۔ مباحثہ میں حصہ لینے والے نریش گجرال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پنجابی زبان کو بل میں شامل نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے اپیل کریں گے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے کیونکہ اس فیصلہ سے خطہ میں پنجابی زبان بولنے والوں کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ کسی بھی قوم و ثقافت کی اصل شناخت اس کی زبان ہی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں 13لاکھ پنجابی آباد ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی پی کے میرمحمد فیاض نے بل میں گرجری، پنجابی اور پہاڑی زبانوں کو شامل کرنے کا یہ کہہ کر مطالبہ کیا کہ ریاست میں ’’ سب کا ساتھ ۔ سب کا وکاس ‘‘ والے جذبہ کا فقدان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہرایک کا دل جیتنے کے لئے پنجابی ، گرجری اور پہاڑی زبانوں کو بھی بل میں شامل کیا جائے ۔ دریں اثناء آر بی آئی کے قائد رام داس اتھاولے نے کشمیری اور ڈوگری زبانوں کی حمایت کرتے ہوئے اسے شاعری کی خوبصورت زبانیں قرار دیا اور یہ امید ظاہر کی کہ ایک دن پاکستان مقبوضہ کشمیر (POK) ہندوستان کو مل جائے گا ۔ بی جے ڈی کے ممتا موہنتا نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بل کے ذریعہ مرکز کے زیرانتظام ریاست سے قومی یکجہتی کا فروغ ہوکر یہ قومی دھارے میں شامل ہوسکے گی ۔ بی جے پی کے شمشیر سنگھ منہاس نے ڈوگری زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ بی جے پی کے ہی سریندر سنگھ ناگر نے مذکورہ بل کی حمایت کی ۔