پارلیمنٹ کے احاطہ میں تلنگانہ کے کانگریس ارکان کا دھرنا

   

چیف منسٹر کے بیان کی مذمت، ایوان میں آج تحریک التواء کا فیصلہ
حیدرآباد۔7 ۔ فروری (سیاست نیوز) پارلیمنٹ کے احاطہ میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی ، اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے امبیڈکر مجسمہ کے قریب دھرنام منظم کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دستور بدلنے سے متعلق کے سی آر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے تینوں ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج درج کرایا اور صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ چیف منسٹر کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور نے احتجاجی ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے اظہار یگانگت کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اسپیکر لوک سبھا ، وزیراعظم اور صدر جمہوریہ کو دستور کے خلاف کے سی آر کے بیان سے واقف کرانے کیلئے یہ احتجاج کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس بارے میں وضاحت کرنی چاہئے ۔ دستور ہند میں دلتوں ، گریجنوں ، خواتین اور دیگر طبقات کو جو حقوق فراہم کئے ہیں، اسے ختم کرنے کیلئے دستور میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے بیان کے پس پردہ بی جے پی کارفرما ہے۔ بی جے پی کے نظریہ کو کے سی آر نے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کل 8 فروری کو کانگریس ارکان پارلیمنٹ لوک سبھا میں تحریک التواء پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر کے بیان کی مذمت کریں گے ۔ سارے ملک کو چیف منسٹر کے ریمارکس سے واقف کرانے کیلئے تحریک التواء پیش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پارٹی کی جانب سے ایجی ٹیشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کے سی آر اپنا بیان واپس نہ لیں۔ ر