پرینکا ریڈی کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ، لوک سبھا میں اتم کمار ریڈی نے مسئلہ ا ٹھایا
حیدرآباد ۔2 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے وٹرنری ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوک سبھا کے باہر مظاہرہ کیا۔ صدر پردیش کانگریس و رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ اتم کمار ریڈی کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، اے ریونت ریڈی اور ایم اے خاں نے احتجاج میں حصہ لیا ۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی و انچارج تلنگانہ امور آر سی کنتیا بھی مطالبہ کی تائید میں اظہار یگانگت کیلئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ پارلیمنٹ کے باہر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے نعرہ بازی کی۔ وہ قتل کی مذمت اور خاطیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ ارکان پارلیمنٹ نے چیف منسٹر پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ انہوں نے ابھی تک پرینکا ریڈی کے افراد خاندان سے ملاقات نہیں کی ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر خواتین کے تحفظ کے سلسلہ میں بلند بانگ دعوے کرتے رہے لیکن تلنگانہ میں قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے خاطیوں کو فاسٹ ٹریک کوڈ کے ذریعہ پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ اتم کمار ریڈی نے لوک سبھا میں پرینکا ریڈی قتل کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری لیڈی وٹرنری ڈاکٹر کو بیدردی کے ساتھ قتل کر کے نعش کو جلادیا گیا تاکہ ثبوت مٹایا جاسکے ۔ یہ واقعہ انتہائی سیکوریٹی والے علاقہ اور ایرپورٹ کے قریبی فاصلہ پر پیش آیا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پولیس کی نااہلی کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرینکا ریڈی کے رشتہ داروں کو شکایت درج کرنے کیلئے تین پولیس اسٹیشن گھمایا گیا اور پولیس اپنے حدود سے انکار کرتی تھی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اگر شکایت کے فوری بعد تلاش شروع کی جاتی تو لیڈی ڈاکٹر کو بچایا جاسکتا تھا۔ تلنگانہ میں شراب کی فروخت کو عام کرنے کیلئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ شراب کی فروخت میں اضافہ کے نتیجہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کی فروخت ممنوع ہے لیکن تلنگانہ میں اس کی اجازت دی گئی اور پرینکا ریڈی کے تمام قاتل شراب کے نشہ میں دھت تھے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں سماج کا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔