سعودی عرب کے بعد وزارت شہری ہوا بازی کا بڑا فیصلہ 14 ملکوں کیلئے محدود خدمات ہوں گی کورونا انفیکشن میںکمی پر اقدام
نئی دہلی : ہندوستان انٹرنیشنل فلائیٹس کو /15 ڈسمبر 2021 ء سے بحال کردے گا ، جن کو کورونا وائرس کے سبب گزشتہ سال معطل کردیا گیا تھا ۔ وزارت شہری ہوا بازی نے جمعہ کو ایک بیان میں اطلاع دی کہ شیڈولڈ کمرشیل انٹرنیشنل پاسنجر سرویسیس کے احیاء کے معاملہ کا امور داخلہ ، امور خارجہ اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارتوں کے ساتھ مشاورت میں جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ /15 ڈسمبر سے پاسنجر فلائیٹس بحال کردی جائیں ۔ سیول ایویشین سکریٹری راجیو بنسل نے دو روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ انٹرنیشنل فلائیٹ آپریشن سال کے ختم تک بحال ہوجانے کی توقع ہے ۔ ایک مربوط تبدیلی میں گزشتہ روز ہی سعودی عرب نے اعلان کیا کہ یکم ڈسمبر سے عمرہ کے بشمول ان 6 ممالک کے مسافرین کو بھی سلطنت میں راست داخلہ دیا جائے گا جن کو کورونا انفیکشن کے سبب روک دیا گیا تھا ۔ ان ملکوں میں ہندوستان اور پاکستان نمایاں ہے ۔ دونوں ملکوں میں بڑی تعداد میں مسافرین کو سعودی اعلان سے راحت ملی ہے ۔ ایک ماہ قبل حکومت ہند نے فلائیٹس کی معطلی /30 نومبر تک بڑھائی تھی اور اس میں کارگو فلائیٹس اور بعض ممالک کے ساتھ ایرببل معاہدہ کے تحت کمرشیل فلائیٹس کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا ۔ آج کے اعلان کے مطابق /15 ڈسمبر سے ہندوستان کو مختلف انٹرنیشنل پاسنجر فلائیٹس آسکیں گی اور ہندوستان سے پرواز کرسکیں گی ۔ وزارت صحت نے 14 ملکوں کو جوکھم والی کیٹیگری میں رکھا ہے جہاں ہندوستانی فلائیٹس کی بحالی صرف 75 فیصد ہوگی ۔ ان ملکوں میں برطانیہ ، سنگاپور ، چین ، برازیل ، بنگلہ دیش ، ماریشیس اور نیوزی لینڈ شامل ہیں ۔ اس فہرست میں شامل دیگر ممالک جنوبی آفریقہ ، بوٹسوانا ، اسرائیل اور ہانگ کانگ ہیں جہاں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے ۔ ہندوستان اور دیگر ملکوں کے درمیان مقررہ شیڈول والی انٹرنیشنل پاسنجر فلائیٹس معمول کی سرویسیس پر لوٹ آئے گی ۔ یہ فلائیٹس گزشتہ سال مارچ میں کووڈ لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی معطل کردی گئی تھیں ۔ عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے متنبہ کیا ہے کہ نئی قسم کے کورونا انفیکشن والے ملکوں کیلئے فلائیٹ آپریشن کی بحالی میں جلدی بازی نہ کریں ۔ گزشتہ ہفتہ وزیر شہری ہوا بازی جوتیر آدتیہ سندھیا نے کہا تھا کہ حکومت انٹرنیشنل فلائیٹ آپریشنس کے معمول پر لانے کے عمل کا جائزہ لے رہی ہے ۔