پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ 2024 لوک سبھا الیکشن کے رجحان ساز

   

سیاسی جماعتوں کی جانب سے ناقابل عمل وعدوں کی بھرمار، الیکشن میں کامیابی بنیادی مقصد، اسرائیل۔ فلسطین تنازعہ بھی انتخابی موضوع
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( سیاست نیوز)ملک کی 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مہم شدت اختیار کرچکی ہے اور پانچ ریاستوں کے نتائج یقینی طور پر آئندہ لوک سبھا انتخابات پر اثر انداز ہوں گے۔ قومی سطح پر اقتدار پر نظر رکھنے والی پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس کیلئے پانچ ریاستی اسمبلیوں کے چناؤ نتائج غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہوں گے اور لوک سبھا کیلئے ٹرینڈ سیٹر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی قومی سطح پر تیسری مرتبہ اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے جبکہ کانگریس پارٹی ہم خیال اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انڈیا اتحاد کے ذریعہ بی جے پی کو ہیٹ ٹرک سے روکنا چاہتی ہے۔ چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کو اپنی حکومتوں کو بچانا ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کا وقار داؤ پر ہے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس اقتدار ہیٹ ٹرک کی تیاری میں ہے۔ انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی پانچ ریاستوں کے بارے میں مختلف پول سروے رپورٹس وقفہ وقفہ سے منظرعام پر آرہی ہیں جن میں متضاد پیش قیاسیاں کی جارہی ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے اور بعض سروے رپورٹس بی آر ایس اور دوسرے سروے کانگریس کے حق میں منظر عام پر آئے۔ تلنگانہ میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے دورہ کے بعد کانگریس کے موقف میں بہتری آئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بی آر ایس کی انتخابی مہم کی کمان کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے ہاتھوں میں ہے۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں مخالف حکومت لہر اور بی جے پی و کانگریس کے داخلی اختلافات نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ راجستھان میں کانگریس کا موقف کمزور ہے ٹھیک اسی طرح بی جے پی زیر اقتدار مدھیہ پردیش میں کانگریس کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ راجستھان میں خاتون رائے دہندوں کو فیصلہ کن موقف میں دیکھا جارہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے خواتین کی تائید حاصل کرنے کیلئے 33 فیصد تحفظات بل منظوری کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے پیش نظر خواتین تحفظات بل کو منظوری دی گئی۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ کو بھی بی جے پی ووٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسرائیل کو مرکزی حکومت کی تائید سے ہندو ووٹ متحد کرنے کا منصوبہ ہے۔ مسلمانوں کی ناراضگی سے بچنے کیلئے نریندر مودی نے فلسطین کیلئے انسانی بنیادوں پر امداد روانہ کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا لوک سبھا چناؤ پر اثر پڑے گا۔کامیابی کیلئے سیاسی پارٹیوں نے عوام سے وعدوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وعدوں کی تکمیل کے بارے میں کوئی بھی پارٹی یہ ضمانت دینے کے موقف میں نہیں ہے کہ ریاستوں کی کمزور معاشی صورتحال کے سبب عوام کو کس طرح مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ عوام کی تائید حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی پارٹی ناقابل عمل وعدوں سے گریز کرنے تیار نہیں ہے۔ مبصرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رائے دہی سے قبل محاسبہ کرتے ہوئے عام آدمی کے حق میں بہتر پارٹی کو برسراقتدار لائیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے جس کے ذریعہ ناقابل عمل وعدوں کو روکا جاسکے۔