ممبئی ۔ ہاردک پانڈیا نے شاید ہی سوچا ہوگا کہ ممبئی انڈینز میں ان کی واپسی اتنی بری ثابت ہوگی۔ گجرات ٹائٹنز کو اپنی کپتانی میں لگاتار2 سیزن تک آئی پی ایل کے فائنل میں لے جانے کے بعد (ایک مرتبہ ٹرافی دلوانے) وہ ممبئی واپس آئے، جس کے بارے میں شروع میں ممبئی کے شائقین میں کافی جوش و خروش پایا جاتا تھا، لیکن جب روہت شرما کی جگہ انہیں ٹیم کا کپتان مقررکیاگیا تو یہ جوش غصے میں بدل گیا اور تب سے وہ مسلسل نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اب ان کی کپتانی میں ٹیم اس سیزن میں پہلی بار پلے آف کی دوڑ سے باہر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہاردک کی کپتانی خطرے میں ہے کیونکہ سینئرکھلاڑیوں نے ان کے طریقوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممبئی انڈینز کے کئی سینئرکھلاڑیوں نے ہاردک کی کپتانی میں ٹیم کو چلانے کے طریقے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک میچ کے بعد ٹیم کے تمام کھلاڑیوں بشمول روہت شرما، سوریاکمار یادیو، جسپریت بمراہ نے کوچنگ عملہ سے ملاقات کی جس کے بعد کچھ سینئرکھلاڑیوں نے الگ الگ بات کی اور ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجوہات بتائی۔ ٹورنمنٹ کے ابتدائی میچوں کے بعد سے ہی ہاردک پانڈیا کے کئی فیصلے مسلسل تنقیدوں کی زد میں تھے۔ کبھی جسپریت بمراہ کو بولنگ کے لیے دیر سے لانا، کبھی بیٹنگ آرڈر میں صحیح وقت پر صحیح بیٹرکو نہ بھیجنا، یہ اکثر دیکھا گیا۔ ساتھ ہی میچ میں شکست کے بعد نوجوان بیٹر تلک ورماکو ان کا نام لیے بغیر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ہاردک پر اور بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے ہاردک کی کپتانی بھی خطرے میں ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیزن کے اختتام کے بعد ہر سال کی طرح اس بار بھی ٹیم کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو فرنچائز ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرسکتی ہے۔ اب بڑا فیصلہ کیا ہوگا، یہ آنے والے چند ماہ میں ہی واضح ہو جائے گا۔ ویسے بھی اگر اس سیزن کے بعد میگا نیلامی ہونی ہے تو کیا ٹیم ہاردک کی جگہ روہت کو دوبارہ کپتان بنائے گی یا سوریا، بمراہ جیسے تجربہ کاروں میں سے کسی کو منتخب کرے گی یا ہاردک کو ایک اور موقع دیا جائے گا ان پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔