پانی کے انفلو کی کمی ، حکام نے حمایت ساگر کے دروازے بند کردیئے

   

شہر کے دونوں بڑے ذخیرہ آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر سیاحتی مراکز میں تبدیل، عوام کی سیروتفریح کیلئے آمد
حیدرآباد: سیلاب کے پانی کے بہاؤ کی کمی کے بعد حکام نے حمایت ساگر کے دروازے بند کردیئے۔ واضح رہیکہ شہر حیدرآباد اور مضافات میں شدید بارش کے باعث حمایت ساگر میں تیزی سے پانی جمع ہورہا تھا۔ حمایت ساگر کی سطح مکمل ہونے کے بعد حکام نے 10 سال بعد حمایت ساگر کے پہلے دن دو دروازے کھولے تھے۔ اس کے بعد حمایت ساگر میں انفلو تیزی سے بڑھنے کے بعد 17 کے منجملہ 14 حمایت ساگر کے دروازوں کو کھولتے ہوئے پانی چھوڑا گیا تھا۔ تاہم گذشتہ 4 دن سے بارش تھمی ہوئی ہے جس سے حمایت ساگر میں پانی کا انفلو دھیرے دھیرے کم ہوا ہے۔ حکام نے آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے دروازے بند کررہے تھے۔ آج عہدیداروں نے جن دو دروازوں سے پانی خارج ہورہا تھا اس کو بھی بند کردیا۔ فی الحال حمایت ساگر میں 1,763 فیٹ پانی موجود ہے۔ عثمان ساگر میں 1783.287 فیٹ پانی موجود ہے جبکہ عثمان ساگر کی مکمل سطح زیرآب 1.790 فیٹ ہے۔ 10 سال بعد حمایت ساگر اور عثمان ساگر میں بھاری مقدار میں پانی جمع ہونے سے یہ دونوں ذخیرہ آب سیاحتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ لوگ بڑے پیمانے پر سیر و تفریح کیلئے ان دونوں ذخیرہ آب کو پہنچ رہے تھے۔ حمایت ساگر کے بھلے ہی دروازے بند کردیئے ہیں مگر عوام کی سیروتفریح کا سلسلہ جاری ہے۔