پانی کے مسئلہ پر سیاست نہ کرنے تلنگانہ حکومت کو چندرا بابو نائیڈو کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

سمندر میں ضائع ہونے والی پانی کے استعمال پر اعتراض کیوں، تلگو ریاستوں کا مفاد اہمیت کا حامل
حیدرآباد ۔7 ۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ حکومت سے خواہش کی ہے کہ وہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ کرشنا اور گوداوری کا سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کے استعمال پر تنازعہ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری میں وافر مقدار میں پانی موجود ہے، لہذا پولاورم پراجکٹ پر تلنگانہ کے اعتراضات غیر ضروری ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے پولاورم توسیعی پراجکٹ کے کاموں کی پیشرفت کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں جانے والے پانی کا استعمال کوئی بھی کرسکتا ہے۔ پانی کے مسئلہ پر تلنگانہ سے اپیل کرتا ہوں کہ سیاسی رنگ نہ دیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سیاسی قائدین کی جانب سے آبی تقسیم پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی درست نہیں ہے۔ عوام کو بھی اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلگو سماج ایک ہی ہے اور تلگو ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کا رویہ ہونا چاہئے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ تلگو ریاستوں میں اختلافات سے عوام کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات کے مسئلہ پر سیاست کی جاسکتی ہے لیکن دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ تلگو دیشم دور حکومت میں آر ڈی ایس کو جرالا پراجکٹ سے پانی سربراہ کیا گیا جس سے محبوب نگر کو فائدہ ہوا۔ تلگو دیشم دور حکومت میں تلنگانہ کے کئی آبپاشی پراجکٹس شروع کئے گئے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں بعض قائدین کے بیانات سے انہیں حیرت ہوئی ہے۔ وہ موجودہ سیاست کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے بتایا کہ گوداوری کے فلڈ واٹر کے استعمال کیلئے آندھراپردیش نے پراجکٹ کا منصوبہ بنایا ہے جس پر تلنگانہ کے اعتراضات غیر ضروری ہیں۔1