شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج کا شاخسانہ، سیمی سے بھی تعلق کا الزام
لکھنؤ:31 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) ریاست میں شہریت (ترمیمی)قانون کے خلاف پر تشدد احتجاجی مظاہرے کرنے کے الزام میں اترپردیش حکومت نے مرکز سے اپنی سفارش میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)پر فوری اثر سے پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔پی ایف آئی پر پابندی کا سفاریش لیٹر پیر کو ریاست کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے سنٹر کو بھیجا ہے ۔وہیں ریاست کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں منگل کو کہا کہ ریاست میں ہوئے تشدد کے پیچھے اسی تنظم کے اراکین کا ہاتھ تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسی تنظیموں کو پنپنے کی بالکل بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان پر پابندی عائد کی جائیگی۔ہم نے اس پر پابندی کے لئے مرکز کو خط ارسال کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایف آئی کے متعدد اراکین کا تعلق پہلے سے ہی ممنوعہ جماعت اسٹوڈنٹ اسلامی مومنٹ آف انڈیا(سیمی) سے ہے ۔پولیس انکوائری میں اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ ریاست کے متعدد مقامات خاص کرلکھنؤ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں پی ایف آئی کے کارکنوں کا ہاتھ تھا۔ ہم نے ایسے شرپسند عناصر کو ہر حال میں پہچان کر ختم کرنے کا عزم کررکھا ہے ۔یوپی ڈی جی پی نے کہا کہ انہوں نے پی ایف آئی پر پابندی لگانے کے لئے مرکز کو سفارشی لیٹر ارسال کردیا ہے ۔واضح رہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد یوپی پولیس نے پی ایف آئی کے ر یاستی صدر وسیم احمد سمیت تین افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف آئی) کا قیام 22 نومبر 2006 کو ہوا تھا۔
