۔5 اگسٹ کو آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد سے وادیٔ کشمیر میں تشدد کم ہوگیا، آرمی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل رنبیر سنگھ کا دعویٰ
بھدروا ؍ جموں 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آرمی نے آج دعویٰ کیاکہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پاس مختلف ٹریننگ کیمپوں میں لگ بھگ 500 دہشت گرد جموں و کشمیر میں گھسنے کے مواقع کے منتظر ہیں۔ اِس کے ساتھ فوج نے یہ بھی کہاکہ 5 اگسٹ کو آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد سے وادی کشمیر میں تشدد کم ہوگیا ہے۔ ناردن کمانڈ کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے یہاں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 200 تا 300 دہشت گرد جموں و کشمیر کے داخلی علاقوں میں سرگرم ہیں تاکہ اِس خطہ کو پاکستان کی مدد کے ساتھ کشیدہ برقرار رکھا جاسکے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کے اندرون سرگرم عسکریت پسندوں کا معاملہ ہے 200 تا 300 دہشت گرد جو کسی طرح یہاں پہونچ گئے وہ یہاں کے عسکریت پسندوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ رنبیر سنگھ نے اخباری نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ جموں و کشمیر میں سرگرم عسکریت پسند اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاک مقبوضہ کشمیر میں منتظر دہشت گرد ملک میں گھسنے کے لئے تیار ہیں۔ اِس طرح تقریباً 500 دہشت گرد ٹریننگ کیمپوں سے نکلے ہیں اور جموں و کشمیر میں دراندازی کرنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ اعداد و شمار اُن کے ٹریننگ شیڈول کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ تعداد چاہے کچھ بھی ہو ہم اُنھیں روکنے اور اُن کا صفایا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تاکہ اِس خطہ میں امن اور معمول کے حالات بحال ہوجائیں۔ آرمی کمانڈر نے کہاکہ ہمیشہ اُن کی کوشش رہی کہ جموں و کشمیر میں امن اور نارمل حالات کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن پاکستان یہاں امن کو بگاڑنے کے لئے کچھ نہ کچھ شرارت کی کوشش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ آج بھی پاکستان کے اندرون اِس کی فورسیس اور ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گردی کا انفراسٹرکچر برقرار رکھا جارہا ہے۔ اِن میں دہشت گردوں کے لئے ٹریننگ دینا شامل ہے تاکہ پڑوسی ملک میں گھس سکیں۔ پاکستان دہشت گردوں کو مسلح کرتے رہتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچاسکیں۔ تاہم 5 اگسٹ کے بعد کی صورتحال کے تعلق سے لیفٹننٹ جنرل سنگھ نے کہاکہ اُنھیں وادی کے نوجوانوں سے بڑی اُمیدیں ہیں۔ آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد سے کشمیر میں تمام پرتشدد سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دہشت گردی سے متعلق واقعات میں بھی کمی ہوئی۔ پتھراؤ کے واقعات بھی کم ہوگئے ہیں۔