امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن کی پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر تفصیلی بات چیت
امریکہ کو 2001ء میں افغانستان پر فوج کشی کی ضرورت ہی کیا تھی : عمران خان
واشنگٹن : امریکہ طالبان کیلئے محفوظ مقام تصور کئے جانے والے افغان ۔ پاکستان سرحدی علاقوں کو بند کرنے کوشاں ہے جس کیلئے پاکستان کی قیادت سے بات چیت پر زیادہ زور دیا جارہا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے افغانستان میں داخلی طور پر عدم تحفظ اور عدم استحکام پیدا ہورہا ہے۔ پنٹگان کے ایک بیان کے مطابق امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے اس سلسلہ میں فون پر پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت کی۔ پیر کے روز انہوں نے فون کرکے افغانستان کی موجودہ صورتحال، علاقائی سیکوریٹی اور دورخی دفاعی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی۔ پنٹگان کے پریس سکریٹری جان کربی نے یہ بات بتائی۔ مسٹر کربی نے دونوں شخصیتوں کے درمیان ہوئی بات چیت کا خلاصہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ مسٹر آسٹن نے امریکہ۔ پاک تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت اور خطہ میں دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف امور پر بات چیت کی۔ انہوں نے دورخی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر وسیع تر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر کربی نے کہا کہ پاک۔ افغان سرحد کے قریب طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں امریکہ پاکستانی قیادت سے اکثر و بیشتر بات کرتا رہتا ہے کیونکہ امریکہ کا ماننا ہیکہ پاک۔ افغان سرحدی علاقوں میں طالبان کی موجودگی سے افغانستان کے داخلی حالات مزید حراب ہورہے ہیں جس پر امریکہ کو بیحد تشویش ہے۔ ہمیں اس بات کی بھی فکر ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام بھی اس خطہ سے پیدا ہونے دہشت گردانہ کارروائیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ ہماری مشترکہ (پاکستان۔ امریکہ) کوشش ہونی چاہئے کہ سرحدی علاقوں میں طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کو بند کردیا جائے۔ ان علاقوں کو نہ صرف طالبان بلکہ کسی بھی دیگر دہشت گرد تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ وہاں عدم استحکام نہ ہو۔ مسٹر کربی نے کہا کہ اس کیلئے امریکہ پاکستان سے وقتاً فوقتاً بات چیت کرتا رہتا ہے۔ واضح رہیکہ افغانستان سے امریکہ اور ناٹو کی افواج نکلنے کے بعد طالبان کا ایک بار پھر غلبہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ جیسے جیسے طالبان کے حملوں میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے افغان سیکوریٹی فورسیز اور حکومتی افواج نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے فضائی حملے کئے جس کیلئے انہیں امریکی فوج کی مدد بھی حاصل رہی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ گذشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ امریکہ نے افغانستان کے حالات کو ملیامیٹ کردیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ آخر 2001ء میں امریکہ کو افغانستان پر فوج کشی کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اور اس کے بعد طالبان کے ساتھ افغانستان کے سیاسی حل کی باتیں کی جانے لگی جن کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔