ذات پات کی مردم شماری کرانے کے فیصلہ کا خیرمقدم، جی سکھیندر ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔یکم؍ مئی، ( سیاست نیوز) صدر نشین تلنگانہ قانون ساز کونسل جی سکھیندرر یڈی نے کہا کہ پہلگام دہشت گردی حملہ کے بعد عوام پاکستان سے آر پار کی لڑائی لڑنے کے حق میں ہیں تاہم پاکستان سے جنگ کے بجائے مرکزی حکومت دہشت گردی کا خاتمہ کرے۔ پاکستان کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں اور ان کے سرکردہ رہنماؤں کو ہندوستان کے حوالے کرے۔ نلگنڈہ میں پانی قیامگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جی سکھیندر ریڈی نے پاکستانی قائدین پر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے مردم شماری اور ذات پات پر مبنی سروے کرانے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ سماجی پس منظر کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں ذات پات کا ریزرویشن نافذ ہے۔ وہ اس بات کی وضاحت چاہتے ہیں کہ اس فرق کو کیسے پُر کیا جائے گا۔ جی سکھیندر ریڈی نے تلنگانہ حکومت کو مبارکباد دی جس نے سب سے پہلے ملک میں ذات پات کی مردم شماری کی۔ 2014 کے تقسیم ریاست بل میں اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جموں کشمیر میں حلقوں کی نئی حد بندی کی گئی۔ مگر تقسیم ریاست کے قانون میں وعدہ کے باوجود دونوں تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کی گئی۔ جی سکھیندر ریڈی نے تلگو ریاستوں سے سوتیلا سلوک کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے 2026 کے بعد حلقوں کی ازسر نو حد بندی کرنے کا تیقن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدے اور اقتدار منتقل نہ ہونے کا انہوں نے حوالہ دیا۔ ریاست کے کئی مقامات سے پروٹوکول کی خلاف ورزی ہونے کی شکایات وصول ہورہی ہیں۔2