پاکستان :مندر میں توڑ پھوڑ‘ 31 افراد گرفتار

   

چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، 5 جنوری کو سماعت
اسلام آباد۔خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقہ ٹیری میں ہندوؤں کے پیشوا، پرم ہنس کی سمادھی اور ملحقہ مندر میں توڑ پھوڑ کے الزام میں 350 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے 31 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔کرک کے ضلعی پولیس افسر عرفان اللہ خان نے آج میڈیا کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما ‘ پارٹی کے ضلعی سربراہ مولانا میر زاقیم خان اور صوبائی رہنما رحمت سلام خٹک بھی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق انہوں نے سمادھی کے احاطے کو کنٹرول میں لے لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ضلعی پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ مزید افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہے جب کہ مندر میں پولیس کی بھاری تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے واقعہ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 5 جنوری کو معاملے پر سماعت کے لیے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا ہے۔چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو 4 جنوری تک عدالت میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔