سیاحتی مقام مری میںکاربن مونو آکسائیڈ سے22افراد کی موت
اسلام آباد: پاکستان میں شدید بارش اور برفباری کے باعث زائد از 40افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ۔عہدیداروں نے بتایا کہ نئے سال کے ساتھ ہی بارش اور برفباری سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے جبکہ کئی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام مری میں شدید برفباری کے دوران سڑکوں پر پھنسی گاڑیوں میں سیاحوں کی ہلاکتوں کی وجہ کاربن مونو آکسائیڈ بتائی گئی ہے ۔ واقعہ کی تحقیقات کے بعد ابتدائی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا۔ اس واقعہ نے ملک بھر میں لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مری میں برفباری کے باعث پھنسی گاڑیوں میں تقریباً 22افراد کی اموات ہوئی ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے مری کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا ہے۔مری اور ملحقہ علاقوں میں سیاحوں کی ہلاکت اور شدید برفباری کے بعد وہاں راحت و امدادی کام جاری ہیں اور کئی سڑکوں کو راہگیروں کیلئے صاف کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مری پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ 48 گھنٹوں سے کم وقت میں لاکھوں سیاح ان علاقوں میں چلے گئے۔ کم وقت میں زیادہ لوگوں کے آنے سے مسائل پیدا ہوئے۔مری میں غیرمعمولی برفباری ہوئی ہے اور مسلسل 48 گھنٹوں تک برفباری کا سلسلہ جاری رہا اور اب وہاں صورتحال بہتر ہورہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق7 جنوری کو مری میں 16گھنٹے میں4 فٹ برفباری ہوئی پڑی، 3 جنوری سے7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئی تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔