پاکستان میں سوشیل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر عارضی پابندی

   

مخالف فرانس مظاہروں کا سلسلہ جاری، دو پولیس اہلکار ہلاک l فرانسیسی سفارتخانہ کا علاقہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل
عمران خان حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پارٹی کو دہشت گرد قرار دیدیا

اسلام آباد : حکومت پاکستان نے جمعہ کے روز کئی گھنٹوں تک سوشل پلیٹ فارمس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ یاد رہیکہ گذشتہ کچھ دنوں سے فرانس کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں مذکورہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے اس سلسلہ میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھاریٹی کو ایک نوٹس روانہ کیا جس کے ذریعہ ٹوئیٹر، فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور ٹیلی گرام پر سہ پہر 3 بجے تک مکمل پابندی عائد کی گئی تھی حالانکہ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی لیکن اس سے صرف ایک روز قبل ہی پاکستان میں موجود فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو فرانسیسی سفارتخانہ سے جاری ہدایت میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک انتہاء پسند پارٹی کی جانب سے جاری ریالیوں کے تناظر میں عارضی طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کے بیشتر شہروں میں زندگی مفلوج ہوگئی تھی جبکہ دو پولیس اہلکاروں کی موت بھی ہوچکی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سیاسی پارٹیاں ریالیوں کی سپورٹ کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا بے تحاشہ استعمال کرتی ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے قائد کی گرفتاری کے خلاف ان کے حامی ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر ریالی کرنے نکلے جہاں پاکستان میں موجود فرانسیسی سفیر کو ملک چھوڑنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ جب سے فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے حضرت محمدؐ کے کارٹونس شائع کرنے کی تائید کی تھی، اس کے بعد سے پاکستان میں فرانس کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرتے رہے۔ حضرت محمدؐ کے کارٹونس کو مسلمانوں کی دلآزاری کیلئے شائع کیا جاتا رہا جبکہ مسلمان پیغمبر آخرالزماںؐ کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ عمران خان حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کو راہ راست پر لانے کی بیحد کوشش کی لیکن جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو پارٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی۔ دریں اثناء فرانسیسی سفارتخانہ کی عمارت کے قریب زائد سیکوریٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور آس پاس کے علاقہ کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں عام آدمی کو آنے کی اجازت نہیں۔