پاکستان میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبہ میں شدت

   

پارلیمنٹ میں آج رائے دہی، ٹی ایل پی ورکرس کے خلاف تمام کیسیز سے دستبرداری اختیار
کرنے وزیرداخلہ شیخ راشد احمد کا تیقن

اسلام آباد : پاکستان میں فرانس مخالف جذبات اتنے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں کہ اب منگل کے روز وہاں کی پارلیمنٹ میں رائے دہی ہوگی کہ آیا فرانسیسی سفیر متعینہ پاکستان کو ملک بدر کیا جائے۔ یاد رہیکہ پاکستان میں اسلام نواز عناصر پیغمبراسلام حضرت محمدؐ کے توہین آمیز کارٹون کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے حکومت پاکستان سے عرصہ دراز سے مطالبہ کرتا آرہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ وزیراعظم عمران خان نے پیر کے روز قوم سے اپنے ٹی وی خطاب کے دوران کہا تھا کہ اگر فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالا گیا تو اس کی قیمت پاکستان کو ادا کرنی پڑے گی یعنی پاکستان کے لئے حالات ناخوشگوار ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ پاکستانی صنعت کا تقریباً 50 فیصد حصہ یوروپی یونین کو برآمد کیا جاتا ہے۔ یاد رہیکہ گذشتہ سال کے اواخر میں پاکستان اور فرانس کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب چیچنیا کے ایک شخص نے گستاخ رسولؐ ٹیچر کا سر قلم کردیا تھا اور صدر میکرون نے اس ٹیچر کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ مذکورہ ٹیچر نے کلاس روم میں طالب علم کو پیغمبراسلامؐ کے توہین آمیز کارٹونس دکھائے تھے جو مسلمانوں کیلئے دلآزاری کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ پیغمبر آخرالزماں کی کوئی شبیہہ اتاری نہیں جاسکتی۔ دوسری طرف انتہاپسند تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے اپنے چار مطالبات سامنے رکھے ہیں اور فرانسیسی سفیر متعینہ پاکستان کا اخراج بھی ان چار مطالبات میں شامل ہے حالانکہ ٹی ایل پی پر پاکستان نے امتناع عائد کردیا ہے کیونکہ اس کے ارکان نے گذشتہ ہفتہ راستہ روکو احتجاج منظم کیا تھا جس سے متعدد شہروں کے ریل اور سڑک روٹس شدید طور پر متاثر ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے ہوئے عوامی املاک کو نقصان بھی پہنچایا تھا۔ احتجاج کی شدت کی وجہ سے چار پولیس اہلکار ہلاک بھی ہوئے تھے جبکہ زائد از ایک درجن پولیس اہلکاروں کو ٹی ایل پی کے کارکنوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ ٹی ایل پی ارکان کا کہنا ہیکہ تشدد میں ان کے بھی تئیں ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ تشد دراصل اس وقت پھوٹ پڑا جب عمران خان حکومت نے ٹی ایل پی قائد سعد رضوی کو گرفتار کرلیا تھا کیونکہ فرانس مخالف احتجاجی مظاہروں کی پوری تیاری کی جاچکی تھی۔ پیر کے روز حکومت نے ٹی ایل پی سے بات چیت کا بھی آغاز کیا ہے جس کے بعد یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کیا گیا۔ وزیرداخلہ شیخ راشد احمد نے تیقن دیا ہیکہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔ شیخ راشد نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں یہ بیان دیا ہے۔ ٹی ایل پی اپنے قائد سعد رضوی اور گرفتار شدہ دیگر ارکان کی ریالی کا بھی مطالبہ کررہی ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر اس مطالبہ میں وزیرداخلہ شیخ راشد احمد کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی اور اس کے ورکرس کے خلاف جو بھی کیسیز درج کئے گئے ہیں ان سے دستبرداری اختحیار کرلی جائے گی اور ٹی ایل پی کو بھی اپنا احتجاج ترک کرنا پڑے گا۔