حکومت کی برخاستگی کے خلاف تحریک شروع کرنے پی ٹی آئی کا فیصلہ،اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ پربھی غور و خوض !
اسلام آباد: پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے عمران خان حکومت کے خلاف ہفتے کو ہونے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد نئی وفاقی حکومت کی تشکیل اور نئے وزیر اعظم کے انتخاب پر ابتدائی بات چیت کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا ہے ۔ ایکسپریس ٹریبیون نے جمعہ کو یہ رپورٹ دی ہے ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو بحال کردیا اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو روکنے کا اقدام غیر آئینی تھا۔متحدہ اپوزیشن نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد، اعتماد ان کے حق میں جائے گا اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کی مناسب نمائندگی کے ساتھ نئی وفاقی حکومت بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ نئی حکومت کی مدت کم از کم چھ ماہ یا ایک سال ہونی چاہیے ۔ اس دوران انتخابی اصلاحات اور احتساب سے متعلق دیگر اہم قوانین پاس کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو عام انتخابات کے انعقاد سے قبل حلقوں کی حد بندی مکمل کرنے کے لیے مکمل وقت دیا جائے گا۔نئے وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کے امیدوار ، نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف حلف اٹھانے کے بعد اپنی متوقع حکومت کی ترجیحات کا اعلان کریں گے ، جس میں مہنگائی پر قابو پانے اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے معاشی پالیسی بنانا شامل ہے ۔ دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر اپنی حکومت کی برخاستگی کے خلاف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایکسپریس ٹریبیون نے جمعہ کو اطلاع دی کہ وزیر اعظم عمران خان کو ہفتے (9 اپریل) کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مانا جا رہا ہے کہ خان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں اس تحریک کو شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ، جس میں ہر پلیٹ فارم پرنئی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے اراکین کے اجتماعی استفعیٰ پر بھی غور و خوض کر رہی ہے ۔ تاہم پارٹی کے رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ وہ بھی نئے انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کے حق میں ہیں اور اس لیے فوری استعفیٰ سیاسی طور پر خطرناک فیصلہ ہوگا۔ استعفیٰ سے اپوزیشن کو اپنی مرضی کے مطابق ترامیم یا قوانین لانے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف ‘غیر ملکی سازش’ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ، جس پر قانونی مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ حذب اقتدار نے عوام تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ رائے عامہ کے ذریعے نئی حکومت پر انتخابی اصلاحات اور نئے عام انتخابات کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا اور خان کی قیادت میں ان کے خلاف ایک ریلی نکالی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر ممکنہ حکومت ان کے خلاف جھوٹے معاملے گڑھتی ہے یا گرفتار کرتی ہے ، تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔