صرف شدید علامات والے افراد ہی اسپتال کا رْخ کریں :وزیراعظم عمران خان
اسلام آباد ، 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر سعید غنی نے بتایا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی جانچ میں غلطی کے باعث ملک میں ان کی تعداد دوگنا ہوگئی جو 194 تک پہنچ گئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے بہتر انتظامات کرنے پر ان افراد کو وائرس سے محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان مغربی دنیا کی طرح کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے اپنے شہروں کی بڑے پیمانے پر بندش کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ امریکہ اور دیگر اقوام کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ ریستوران، کاروباری ادارے اور دیگر ہجوم کے مقامات کو بند کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ روز قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے حالات مغربی دنیا سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک چوتھائی شدید غربت کا شکار ہے اور ایسے میں شہروں کی بندش شدید مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے گزشتہ روز قوم سے اپنے خطاب میں شہریوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کوئی کورونا وائرس کی خود میں موجودگی کا پتہ چلانے کیلئے ٹسٹ کروانے میں جلدبازی نہ کرے۔ پاکستانی وزیراعظم نے ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 245 ہونے کے ضمن میں عوام سے صبر و تحمل کے مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ دریں اثناء سری لنکا نے اپنی سرحدیں سیل کرنے کے علاوہ بْدھ کو اپنی اسٹاک مارکیٹ بھی بند کر دی۔ کولمبو حکومت نے اس مہلک وائرس کے جنوبی ایشیائی ممالک میں پھیلاؤ میں تیزی کے خطرات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں راتوں رات تصدیق شدہ کورونا وائرس کی کل تعداد بڑھ کر 482 ہو گئی ہے۔ اس خطے میں غیر ملکی مسافروں کی آمد و رفت روکنے کیلئے پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں۔ تیزی سے پھیلنے والا یہ مہلک وائرس اب تک دنیا کے دو لاکھ انسانوں کو متاثر کرچْکا ہے اور دنیا بھر میں اس وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری کووِڈ ۔19 کے سبب لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد 8419 تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں اس بات کا شدید خدشہ پایا جاتا ہے کہ صحت کی ناکافی سہولیات اورغریب علاقوں میں گنجان آبادی کے سبب یہ متعدی وائرس تیزی سے پھیلے گا۔ دریں اثناء پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو قوم سے اپنے خطاب میں شہریوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کوئی کورونا وائرس کی خود میں موجودگی کا پتا چلانے کیلئے ٹسٹ کروانے میں جلدبازی نہ کرے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تاہم یہ بھی کہا کہ پاکستان مغربی دنیا کی طرح کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے اپنے شہروں کی بڑے پیمانے پر بندش کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ امریکہ اور دیگر اقوام کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ ریستوران، کاروباری ادارے اور دیگر پرہجوم مقامات کو بند کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ روز قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے حالات مغربی دنیا سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک چوتھائی شدید غربت کا شکار ہے اور ایسے میں شہروں کی بندش شدید مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا،”یہاں تک کہ امریکہ کے پاس بھی ہر کیس کو جانچنے کے وسائل موجود نہیں ہیں۔ صرف شدید علامات والے افراد کو ہسپتال جانا چاہیے۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کریں گے اور خدا کی رضا سے ہم یہ جنگ جیتیں گے۔‘‘ پاکستان نے اپنی زمینی سرحدیں پہلے ہی بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم منگل کی شب پاکستان کی سیول ایوی ایشن اتھارٹی نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے فوری ضروری اقدامات کے تحت اعلان کر دیا کہ پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی مسافروں پر یہ لازم ہو گا کہ وہ کووڈ۔19 کے ٹسٹ کی رپورٹ پیش کریں۔ دریں اثناء پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی شرح سود کو 75 بی پی ایس سے کم کر کے منگل 12.50فیصد کر دیا۔ یہ گزشتہ چار سال میں انٹرسٹ پر پہلا کٹ ہے جو کورونا وائرس سے پورے خطے کے حصص کے بازاروں پر آنے والی تباہی کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب سری لنکا میں اب تک کورونا وائرس کے 43 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
