پاکستان کی جاریہ ماہ دوست ممالک سے 4 ارب ڈالر قرض کی مساعی

   

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ظاہر کیے گئے غیر ملکی ذخائر میں فرق کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو رواں ماہ ’’دوستانہ ممالک‘‘سے 4 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے ۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ آئی ایم ایف نے جمعرات کو پاکستان کے ساتھ 1.18 بلین ڈالر کے قرض کی فراہمی کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسٹاف کی سطح کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بورڈ 2019 میں 6 بلین ڈالر کے متفقہ پروگرام کے تحت مزید ایک ارب ڈالر دینے پر غور کر رہا ہے ۔زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف کے مطابق 4 ارب ڈالر کا فرق ہے۔
پاکستان کو ذخائر میں کمی، بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا ہے ۔ اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف ڈیل کے بغیر ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو رواں مالی سال کثیرالجہتی قرض دہندگان سے تقریباً 6 بلین ڈالر ملیں گے ، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے 3.5 بلین ڈالر اور ورلڈ بینک سے 2.5 بلین ڈالر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے بھی 400-500 ملین ڈالر کی توقع ہے اور اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے رقم میں اضافے کا امکان ہے ۔