اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعتوں کے نئی کابینہ میں شامل اراکین نے حلف اٹھا لیے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے نئے اراکین سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حلف لیا۔وفاقی کابینہ کے اراکین کی حلف برداری کی تقریب اسلام آباد میں ایوان صدر میں ہوئی۔ اس کابینہ میں کل 31 وفاقی وزیر، تین وزیر مملکت ہیں اور تین مشیر شامل ہیں۔پاکستانی میڈیا کے مطابق نئی کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 14 وزیر ہیں۔ کابینہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نو وفاقی وزیر اور دو وزیر برائے مملکت اور ایک مشیر برائے وزیراعظم شامل ہیں۔ جے یو آئی ایف کے چار وزیر، ایم کیو ایم کے دو اور جے ڈبلیو پی اور بے اے پی کے ایک ایک وزیر نئی کابینہ کا حصہ ہیں۔ شہباز شریف کے ملکی وزیر اعظم بن جانے کے ایک ہفتے بعد ملکی کابینہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ صدر مملکت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا اور انہوں نے خرابی صحت کے باعث حلف لینے سے انکار کیا تھا جو کہ تاخیر کی ایک وجہ بنی۔ لیکن اسلام آباد سے تجزیہ کار شنیلہ سکندر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جو حکومت اتحادیوں کے ساتھ وجود میں آتی ہے، اسے بہت زیادہ چینلجز کا سامنا ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑا چینلج وفاقی کابینہ کی تشکیل ہوتا ہے کیوں کہ سب اتحادیوں کو قائل کرنا ہوتا ہے اور ایک متقفہ ایجنڈے پر سب کو متفق کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت کڑے مسائل کا سامنا ہے جس میں اقتصادی بحران اولین مسئلہ ہے۔ پاکستان میں افراط زر بلند ترین سطح پر ہے۔ ملکی وزیر اعظم نے عوام کی ناراضی مول نہ لینے کا فیصلہ کیا اور تیل پر سبسڈی کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ اقتصادی صورتحال اس قابل نہیں کہ وہ تیل کی سبسڈی جاری رکھنے کو برداشت کر سکے۔ شنیلہ کے مطابق اس وقت عوام کو نئی حکومت سے مہنگائی کو فوری طور پر کم کرنے کی توقع ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔
’’اتحادی وزیروں کو ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے چھ مہینے، نو مہینے یا پھر ڈیڑھ سال کے لیے اس حکومت میں رہنا ہے تو انہیں کم وقت میں بہت زیادہ اچھی پرفارمنس کرنا پڑے گی۔‘‘ شنیلہ کے مطابق اگر یہ کابینہ عوام کو ریلیف دے پائی تو آنے والے انتخابات میں یہ اتحادی جماعتوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔