زہریلے پارہ پر مشتمل پائے گئے، صحت کیلئے نقصان دہ
حیدرآباد 14 نومبر (سیاست نیوز) ریاست کے شہروں میں مقامی مارکٹس سے رنگ گورا کرنے والے امپورٹیڈ کریم خریدتے وقت بہت محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جو مقامی طور پر تیار کئے جانے والے پراڈکٹس سے زیادہ دلکش اور مرغوب کرنے والے نظر آتے ہیں۔ ان اِسکن وائٹننگ کریمس میں خطرناک حد تک پارہ ہوسکتا ہے جو صحت کے لئے نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ رنگ گورا کرنے والے اس طرح کریمس پر جس میں پارہ کی زیادہ سطح ہوتی ہے، پاکستان میں تیار کئے جانے کا لیبل ہوتا ہے۔ یہ بات نئی دہلی کے ادارہ ٹاکزکس لنک کی ریسرچ ٹیم کی جانب سے امپورٹیڈ اِسکن وائٹننگ کریمس پر کئے گئے ٹسٹس سے معلوم ہوئی جسے وجئے واڑہ میں کالیشور راؤ مارکٹ اور تارا پیٹ سے لایا گیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پارہ صحت کے لئے خطرناک ہوتا ہے اور اس سے اعصابی نظام، معدہ اور گردوں کو نقصان پہنچنے کاک خطرہ لاحق رہتا ہے۔ یو این ای پی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیاکہ جسم کے ریشوں پر مرکیوری اور اس کے زیادہ دیر تک رہنے سے دماغ، قلب، گردوں، پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور قوتِ مدافعت متاثر ہوسکتی ہے۔ بالخصوص شکم مادر میں پرورش پانے والے بچوں کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ وجئے واڑہ مارکٹس سے حاصل کئے گئے ان کریمس کے نمونوں کا شری رام انسٹی ٹیوٹ فار انڈسٹریل ریسرچ نئی دہلی میں ٹسٹ کیا گیا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ایک مصدقہ لیباریٹری ہے جس کی خدمات کو اکثر ملک بھر میں پولیوشن کنٹرول بورڈس کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹاکزکس لنک اسٹڈی ’’ڈارک ٹروتھ آف اِسکن وائٹننگ کریمس : پریزینس آف مرکیوری اِن اسکن وائٹننگ کریمس‘‘ میں 15 نمونوں میں چھ میں مرکیوری کا پتہ چلا ہے۔ پانچ نمونوں میں پارہ کی سطح خطرناک حد تک پائی گئی۔ چھ نمونوں میں صرف ایک ہی میں پارہ کی سطح 1ppm سے کم تھی۔ اس اسٹڈی میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ پیاکیجنگ لیبلس کے مطابق پارہ پر مشتمل یہ تمام چھ نمونے پاکستان میں بنائے گئے۔ نیز ٹسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ہندوستان میں تیار کئے گئے تمام نمونوں میں پارہ کی سطح قابل گرفت حد سے کم تھی۔ ہندوستان میں کاسمیٹکس میں مرکیوری کو ملانے کے تدارک کے لئے سخت قواعد ہیں۔ مرکیوری پر مشتمل کاسمیٹکس کی تیاری اور درآمد کرنے پر مکمل امتناع عائد ہے لیکن غیر ارادی طور پر 1ppm تک پارہ کی اجازت ہے۔ تاہم اس اسٹڈی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکیوری پر مشتمل پراڈکٹس اب بھی ہندوستانی مارکٹ میں دستیاب ہیں۔ ٹاکزکس لنک کی ریسرچ ٹیم کے الکادوبے نے کہاکہ ’’یہ بات تشویشناک ہے کہ بعض امپورٹیڈ نمونوں میں مرکیوری کی سطح موجودہ اجازت کی حد 1ppm سے ایک ہزار گنا زیادہ پائی گئی۔ ان نمونوں کے ٹسٹ نتائج حیران کن ہیں کیوں کہ اس میں مرکیوری کی سطح بہت زیادہ پائی گئی‘‘۔