کرناٹک کے وزیر کانعرہ بازی مسئلہ پر متنازعہ بیان
بنگلورو :کرناٹک کے وزیر اور کانگریس لیڈر کے این راجنا نے ہفتہ کے روز ایک تنازعہ کو جنم دیا جب انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں پاکستان کے حق میں نعرے لگانے والوں کو گولی مار دی جانی چاہئے۔ کرناٹک اسمبلی میں کانگریس لیڈر سید نصیر حسین کی راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کے حامیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگائے گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے نعرہ لگایا ہے تو یا پاکستان کی حمایت کی ہے تو اس شخص کو گولی مار دی جائے۔ کرناٹک کے وزیر نے اتر پردیش میں بلڈوزر کی کارروائی کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آبادی والی ریاست میں امن و امان کو کنٹرول میں لایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد 27 فروری کو ودھان سودھا راہداریوں میں مبینہ طور پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کے الزام میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے حکومت کے زیر انتظام فارنسک سائنس لیبارٹری کو تحقیقات کا حکم دینے کے بعد کی گئیں۔ بی جے پی کی جانب سے کانگریس پر غداری کا الزام لگانے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا گیا کیونکہ اس نے ایسی تصاویر دکھائیں جن میں راہول گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹی کے سینئر رہنما مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار ایک شخص کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے کانگریس کی حکومت والی ریاست میں 27 فروری کو پیش آنے والے واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کناڑیوں اور ہر ہندوستانی کی توہین ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔
