لاہور، 18 فروری (یو این آئی ) پرو ہاکی لیگ میں آسٹریلیا کے خلاف چاروں میچز میں شکست کے بعد ملک واپسی پر پاکستانی ہاکی ٹیم کے حوصلے پست ہونے کے بجائے غصے میں بدل گئے ۔ لاہور ایرپورٹ پر پہنچنے پر جہاں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوئی نمائندہ کھلاڑیوں کے استقبال کے لیے موجود نہ تھا، وہیں پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے ٹیم کے ہمراہ انتظامیہ کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا ہے ۔ کھلاڑیوں نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ نظام کے ساتھ ورلڈکپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ناممکن ہے ۔کپتان عماد شکیل بٹ نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران کھلاڑیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ایتھلیٹس جیسا سلوک نہیں کیا گیا۔ ان کے الزامات کے مطابق کھلاڑیوں کو نہ اچھا ہوٹل دیا گیا اور نہ ہی مناسب رہائش ملی۔ انٹرنیشنل کھلاڑی ہوٹل کے کمروں میں خود کھانا پکانے اور کپڑے دھونے پر مجبور رہے ۔ ٹیم کو ہوٹل کے انتظار میں 16، 16 گھنٹے سڑکوں پر خوارکیاگیا۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ٹورزکے ڈیلی الاؤنسز تاحال ادا نہیں کیے گئے ۔کپتان نے پاکستانی ہاکی فیڈریشن کے ڈھانچے پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی کو اب پیشہ ور افراد اور غیر ملکی کوچزکی ضرورت ہے ۔ انہوں نے سابق اولمپین شہباز سینئر کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں ۔