انڈر گراونڈ کیبل بچھانے ، سرکاری زبان کمیشن کا احیا اور دیگر مطالبات ، اکبر اویسی کا اسمبلی میں خطاب
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے پرانے شہر میں برقی چوری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ برقی نقصانات حکومت کی ناکامی ہے ۔ اس کو پرانے شہر سے جوڑتے ہوئے منظم سازش کے تحت پرانے شہر کو بدنام کیا جارہا ہے ۔ ٹکنالوجی کو جدید تقاصوں سے لیس نہ کرنے کی وجہ سے برقی نقصانات ہورہے ہیں ۔ نئے شہر میں برقی کی جو سہولتیں ہیں وہ پرانے شہر میں میسر نہیں ہے ۔ نئے شہر کے لیے جو رول بنائے گئے ہیں پرانے شہر کے لیے بھی وہی رول متعارف کرنے پر زور دیا ۔ حکومت کے کئی محکمہ جات سے کروڑہا روپئے کے برقی بلز وصول طلب ہے ۔ اس کو وصول کرنے کی ذمہ داری اڈانی کے حوالے کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اسمبلی میں مطالبات زر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ پوری ریاست میں برقی نقصانات 20 فیصد ہے مگر صرف پرانے شہر کو ٹارگیٹ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ پرانے شہر میں انڈر گراونڈ کیبل بچھانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ تلنگانہ سرکاری زبان کمیشن کا احیاء کرنے اور اس میں ایک اردو داں کو ممبر بنانے کا مشورہ دیا ۔ ملازمتوں کی فراہمی میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر سختی سے عمل کرنے بالخصوص کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات کو مستقل کرنے کے دوران بھی 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کرنے سارے امتحانات اردو میں منعقد کرنے ، چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے مانسون کے لیے جی ایچ ایم سی کے لیے خصوصی بجٹ مختص کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف فلائی اوورس کی تعمیر سے ٹریفک مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ خستہ حالت سڑکوں کو فوری مرمت کرنے پرانے شہر میں منی بسیں چلانے پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کے لیے 200 کروڑ روپئے جاری کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مزید 300 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ شیخ پیٹ تا قلعہ گولکنڈہ تک سڑکوں کو ترقی دینے قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں منی لارڈ بازار قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل شروع کرنے سے قبل سڑک توسیع کرنے پرانے شہر میں ایم ایم ٹی ایس ٹرین کی سنگل لائن کو ڈبل لائن کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پرانے شہر کی ترقی کے لیے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو مستحکم کرنے اور فنڈز جاری کرنے پر زور دیا ۔ موسیٰ ندی پراجکٹ کو ترقی دینے کے فیصلے کی مجلس مکمل تائید کرے گی ۔ چیریان پیالیس کو بچانے پر زور دیا ۔ اردو ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ اردو کے ایس سی ، ایس ٹی امیدوار دستیاب نہیں ہورہے ہیں ۔ جس سے لمبے عرصہ سے اردو ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور اس وقت کی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے علم میں جب یہ بات لائی گئی تو انہوں نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان مختص کردہ جائیدادوں کو ڈی ریزور کیا تھا ۔ اس کے لیے دو وقت نوٹیفیکیشن دینا پڑتا ہے ۔ تب امیدوار دستیاب نہ ہونے پر ان جائیدادوں کو عام زمرے میں تبدیل کرتے ہوئے اردو والوں سے تقررات کیے گئے تھے ۔ اب بڑے پیمانے پر ڈی ایس سی تقررات کیے جارہے ہیں ۔ ان میں مختص کردہ اردو جائیدادوں کو عام زمرے میں تبدیل کریں ۔ یونانی کالج میں بھی اردو میڈیسن ہے اس میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر کیا جارہا ہے جس میں مسلمانوں کو بھی نمائندگی دی جائے ۔۔ 2