پرانے شہر میں دو کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی

   

جوبلی ہلز واقعہ اندرون ہفتہ وارداتیں، ملزمین گرفتار، پوکسو مقدمات

حیدرآباد : /5 جون (سیاست نیوز) شہر کے پاش علاقہ جوبلی ہلز میں پیش آئے کم عمر لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ پرانے شہر میں دو عمر لڑکیوں کے عصمت ریزی کے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ مغل پورہ پولیس نے 11 سالہ کمسن لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی میں ملوث دو ملزمین بشمول ایک کیاپ ڈرائیور کو گرفتار کیا ہے ۔ ساتویں جماعت کی طالبہ جو اپنے ننیال کے مکان واقع سلطان شاہی مغل پورہ علاقہ میں مقیم ہیں اپنے والدین سے ملاقات کیلئے اچانک /31 مئی کو پہاڑی شریف علاقہ روانہ ہوگئی ۔ اپنے والدین کے مکان واقع پہاڑی شریف پہنچنے پر مکان مقفل ہونے پر وہ مایوس ہوگئی اور دوبارہ مین روڈ پر آکر آٹو کا انتظار کرنے لگی ۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک کیاپ ڈرائیور جس کی شناخت شیخ کلیم علی عرف کلیم کی حیثیت سے کی گئی ہے نے لڑکی کے سڑک پر انتظار کرنے کی وجہ معلوم کی اور بعد ازاں اسے اس کے مکان چھوڑنے کی پیشکش کی جس پر لڑکی کار میں سوار ہوگئی ۔ کار میں سوار ہونے کے بعد لڑکی کو کیاپ ڈرائیور نے یہ بتایا کہ پہلے وہ شمس آباد جائے گا جہاں پر گاڑی میں ڈیزل بھرانے کے بعد اسے مکان پر چھوڑے گا ۔ ڈرائیور کی باتوں میں آکر لڑکی اس کے ساتھ چلی گئی اور وہ شمس آباد کی گلیوں میں گھومتا رہا اور اپنے رشتہ دار سے ملاقات کے بعد وہ ایک ہوٹل کے پاس پہنچا جہاں پر لڑکی کو کھانا اور پیسے کی پیشکش کی لیکن لڑکی نے انکار کردیا ۔ متاثرہ لڑکی جو تھک گئی تھی کار کی عقبی سیٹ پر سوگئی ۔ کیاپ ڈرائیور نے اس کا فائدہ اٹھاکر کمسن لڑکی کو اپنے دوست لقمان احمد یزدانی کے ذریعہ ایک ولیج لے گئے جہاں پر لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور اس دوران متاثرہ لڑکی کو فون پر فحش ویڈیوز بھی دکھائے گئے ۔ لڑکی کی چیخ و پکار سے پریشان ہوکر اسے دوبارہ گاڑی میں سوار کرلیا اور اسے سلطان شاہی علاقہ میں چھوڑکر فرار ہوگئے ۔ ملزمین نے لڑکی کو اپنا فون نمبر بھی دیا تھا ۔ لڑکی اچانک لاپتہ ہونے کے نتیجہ میں اس کے ننیالی رشتہ داروں نے پولیس مغل پورہ سے گمشدگی کی ایک شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے اغواء کا مقدمہ درج کیا تھا لیکن عصمت ریزی کی شکایت موصول ہونے کے بعد دفعات میں ترمیم کرتے ہوئے عصمت ریزی اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے دونوں ملزمین کو فوری طور پر گرفتار کرلیا اور انہیں عدالت میں پیش کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا ۔ اسی قسم کا ایک اور واقعہ 16 سالہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کا واقعہ کالاپتھر پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آیا جس میں ایونٹ منیجر محمد سفیان ساکن مغل نگر رنگ روڈ لنگر حوض نے ملبوسات کی دوکان پر کام کرنے والی کمسن لڑکی کو اغواء کرنے کے بعد اسے اپنے مکان لے گیا جہاں پر اس کی عصمت ریزی کی گئی اور بعد ازاں اسے چارمینار بس اسٹاپ کے پاس چھوڑدیا ۔ اس بات کو والدین کو بتانے پر سنگین نتائج کا انتباہ دیا جس پر لڑکی خوفزدہ ہوگئی اور آج شدید پیٹ کے درد کے نتیجہ میں اس نے اپنی ماں کو یہ داستان سنائی جس پر کالا پتھر پولیس سے ایک شکایت درج کروائی گئی اور پولیس نے ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے سفیان کو گرفتار کرلیا۔