پرانے شہر میں کئی مقامات سے کچرے کی عدم نکاسی ‘ جگہ جگہ انبار

   

حیدرآباد۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد اور خاص طور پر پرانے شہر میں ان دنوں کچرے کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ کچرے کے انبار نظر آنے لگے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس سلسلہ میں مسلسل لاپرواہی برتی جا رہی ہے اور جہاں خانگی کنٹراکٹرس وغیرہ کو کچرے کی نکاسی اور صبح کے وقت صفائی کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ بھی پوری طرح سے اس کی تکمیل میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں سے مکینوں نے شکایات کی ہیں کہ ان کے علاقہ میں بلدیہ کی جانب سے کچرے کی نکاسی بالکل بھی نہیں کی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مساجد اور اسکولس کے آس پاس بھی کچرے کے ڈھیر پائے جا رہے ہیں۔ کچرا پھینکنے کے مقامات پر زیادہ ڈھیر جمع ہوجانے کی وجہ سے راہ گیروں کو بھی مشکلات پیش آتی جا رہی ہیں۔ بعض مقامات پر کچرا سڑک پر پھیلتا بھی جا رہا ہے جس کی وجہ سے گاڑی رانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کچرے کی عدم نکاسی کی وجہ سے جہاں تعفن پھیل رہا ہے وہیں مچھیر وں کی بھی بہتات ہونے لگی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ شہر یا ریاست ہی نہیں بلکہ سارے ملک میں ایک بار پھر کورونا وباء کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے کچرے کی عدم نکاسی کی وجہ سے بھی بیماریاں پھیلنے کے اندیشے تقویت پارہے ہیں۔ پرانے شہر کے ہر نکڑ اور محلوں کے کوڑا دانوں کے پاس کچرے کا انبار لگا ہوا ہے ۔ بلدیہ کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے اور عوامات شکایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ گھروں پر پہونچ کر کچرا وصول کرنے والی گاڑیاں بھی دو تا تین دن میں ایک بار آ رہی ہیں جبکہ انہیں روزآنہ کچرا حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے اعلی حکام اور متعلقہ ذمہ داران کو اس جانب خاص طور پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کچرے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے نہ پائیں۔